عا لمی، ملکی سیاست اور سائبر ورلڈ

ڈاکٹر عتیق الرحمان
پاکستان کے موجودہ حالات اور عالمی سیاست کا آپس میں گہرا ربط ہے- اور سائبر ورلڈ اس ربط کا سب سے اھم مہرہ ہے- ڈیجیٹل ورلڈ نے ریاستوں کے آپس کے تعلقات، قومی سیاست کا طرز عمل اور انفرادی سطح پر انسانی رویوں کو بہت زیادہ متاثر کیا ھے-
پاکستان دفاعی لحاظ سے اتنا مضبوط ملک ہے کہ بھارت چاہنے کے باوجود پاکستان پر میلی آنکھ نہیں ڈال سکتا- بھارت اپنے اس ملال کو پاکستان کے خلاف بالواسطہ سازشوں اور پراپیگنڈا سے نقصان پہنچا کر، پورا کرنے کی کوشش کر رھا ہے- بھارت کی پاکستان مخالف سازشیں ، چین کے ساتھ جھڑپیں اور ساتھ ہی ساتھ تجارتی روابط میں بہتری، ایران کے ساتھ بہتر تجاری تعلقات اور افغانستان میں اپنا اثرو رسوخ بڑھانے کے لئے کوششیں ، علاقائی سیاست میں اپنا تسلط بڑھانے کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے-
آئی ایم ایف ریاست کی مدد کے نام پر پاکستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کر رہا ہے- ریاست کے اندر سے سیاسی رشہ کشی سے ایسی فضا قائم ہو رہی ہے کہ اندرونی اور بیرونی دباؤ سے عوامی بے چینی ایک انتہاء تک پہنچ جائے – نتیجتا نئی عالمی حد بندی کی جدوجہد میں پاکستان سے مطلوبہ نتائج کے حصول کے لئے آسانی ہو-
افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء سے طالبان کی حکومت کو بے انتہاء چیلنجز درپیش ہیں- ٹی ٹی پی مغربی سرحد پر منڈلاتا مسلسل خطرہ ہے جس سے بخوبی نمٹا جا رھا ہے- ایشیا پیسیفک میں نئی امریکی جارحانہ پالیسی میں پاکستان کو نظر انداز کرنا اور بھارت کے کردار کو بڑھاوا دینا ، صاف ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کی خارجی پالیسی پر دباؤ بڑھایا جا رھا ہے- خطے میں دوسری بڑی ڈویلپمنٹ چین اور روس کی ایران اور سعودی عرب میں دوریاں کم کیلئے ثالثی ہے جس سے مشرق وسطی میں حالات تبدیل ھونگے- اس کا فائدہ پاکستان کو ہو گا- سعودی عرب اور ایران کے روابط میں بہتری سے پاکستان کےان دونوں اسلامی اور تیل کے بڑے ذخائر کے ممالک سے تعلقات میں بہتری آئے گی- ان دونوں ممالک کے آپس میں اختلاف سے پاکستان کی خارجہ پالیسی شدید دباؤ کا شکار رھی ہے- سعودی عرب ہمارا بہترین دوست ہے تو ایران بہترین ھمسائیہ- چین اور روس کا خطے کے تمام ممالک کے لئے یہ ایک انتہائی اہم اور ضروری عمل ہے- امریکہ کی ایران پر پابندیوں سے پورے مڈل ایسٹ اور جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن بگڑ چکا ہے-
اب جب کہ یہ واضح ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک سازش کی جارھی ہے تو
بحثیت پاکستانی ہماری کم از کم قومی اور اخلاقی ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی میں حصہ نہ لیں اور سمجھنے کی کوشش کریں کہ دشمن قوتیں کیوں بر سر پیکار ہیں- اس کی سب سے بڑی وجہ نئی عالمی صف بندی ہے – روس اور یوکرائن کی جنگ سے اس صف بندی کا آغاز ہو چکا ہے- کرونا کی وباء کے عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں- سوئس بینک اور چند امریکی بینک ڈیفالٹ ہونا شروع ہو چکے ہیں – تیل کی عالمی منڈی میں ہیجان پرپا ہے – روس اور جرمنی کے مابین نارڈ سٹریم-۲ گیس پائپ لائن مبینہ طور پر امریکہ نے تباہ کر دی ہے- جس سے یورپ میں گیس کی قلت ہو گئی ہے اور یورپ میں مہنگائی پہلی دفع اپنی حد پار کر چکی ہے- دوسری طرف چیں اور تائیوان کے درمیان تنازعہ جڑ پکڑ چکا ہے-
پاکستان کے اندرونی حالات کا خطے میں ابھرتی نئی صورتحال سے گہرا ربط ہے- پاکستانی کی جغرافیائی افادیت کر کم کرنے کی کوشش جاری ہے تاکہ نئے عالمی منظر نامے میں پاکستان کی خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہونے میں آسانی رہے-
عوامی رائے ، موجودہ دور میں خارجہ اور داخلہ پالیسیوں کا بنیادی جزو ہے- رائے عامہ کو اپنے حق میں استوار کئے بغیر کوئی پالیسی اور خاص طور پر اندرونی محاذ پرسیاسی بیانیہ کامیاب نہی ھو سکتا- بدقسمتی سے سیاسی جماعتوں نے عوامی رائے پر قابو پانے کیلئے پروپیگنڈا اور جھوٹ کا استعمال شروع کر دیا ھے- ڈیجیٹل ورلڈ ایک انتہائی منافع بخش دنیا ہے، جہاں آزادی اظہار کے ساتھ پیسہ بھی ملتا ہے- یہیں سے ڈیجیٹل ورلڈ کے مسائل شروع ہو رھے ہیں- پیسہ کمانے کیلئے اپ کو زیادہ فالوورز چاھیں اور زیادہ فالوورز کے لئے مصالحے دار اور سازشی کہانیاں- یہی جھوٹی کہانیاں عام آدمی کو اپنے اداروں کے خلاف ورغلاتی ہیں- یہی ریاست کا امتحان ہے کہ آزادی اظہار بھی رھے اور سچ کا بول بالا بھی- ڈیجیٹل ورلڈ نے موثر حکمرانی کے لئے مشکلات کھڑی کر دی ہیں- اگر ریاست چاھتی ہے کہ عوام سچ بولے تو ریاست کو بھی سچ بولنا پڑے گا-

Visited 1 times, 1 visit(s) today

You might be interested in