‏پاکستان میں انرجی بحران کی کتھا- کیا نیوکلیئر پاور پلانٹ اس مسئلے کا حل ہے؟

( تحیقیق عتیق الرحمان )
‏ میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی کنگ نے چین کی سعودی عرب میں قطر اور یو اے ای کی سرحد کے ساتھ نیوکلیئر پاور پلانٹ لگانے کی تجویزقبول کر لی ھے-چین نیوکلیئر پاور پلانٹ لگانے میں خود کفالت حاصل کر چلا ہے-چین میں اسوقت 54 نیوکلیئر پاور پلانٹ ( ۵۷۰۰۰ میگا واٹ )57 GW بجلی پیدا کر رھے ہیں –
‏پاکستان کا انرجی بحران، پچھلے بیس سال کی ناقص پالیسیوں، خراب حکمرانی، سیاسی مفادات، اصل مسائل سے چشم پوشی، بجلی چوری، محکمانہ غفلت، رشوت اور تاجر طبقے کے لالچ کا نتیجہ ہے- بجلی مہنگی خریدنے والا محکمہ اور بجلی صارفین تک پہنچانے والی کمپنیاں ، پالیسی بنانے والے، ملکی مجموعی معیشیت کی نگہبانی کرنے والے اور حکمرانی کرنے والے والوں کے کام میں باہمی ربط نہ ھونے کے باعث انرجی بحران شدید ترین ہو چکا ہے- انرجی کے معاملات وفاق کے سپرد ہیں لیکن اس کے متاثرین صوبائی عوام ہیں – توانائی کا بحران اب قومی بحران بن چکا ہے- ملکی معیشیت سمیت، سیاست، ثقافت، تجارت ہر چیز اس بحران کی لپیٹ میں آ چکی ھے-
‏پچھلی دو دھایئوں سے بجلی کا شدید بحران چل رھا ہے- اس بحران کے اوپر ہزاروں ، لاکھوں تحقیقات ہو چکی ہیں ، اصل وجوھات کا تعین ہو چکا ہے ، IPP جو کہ ساری پاکستانی کمپنیاں ہیں ان کے ساتھ مہنگے اور خیر منطقی معاھدوں کی تفصیلات سب سامنے آ چکا ہے لیکن نہ تو قابل ذکر فیصلہ سازی ہو رھی ہے نہ کوئی ذمہ داروں پر ہاتھ ڈال رھا ھے- یہ کمپنیاں پاکستانی ہیں ان کمپنیوں کے مالکان یا تو خود حکومت کا حصہ رھے ہیں یا بلواسطہ ان کے نمائندے حکومت میں ان کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں -پچھلی ایک دھائی سے زائد کچھ عرصے میں انرجی کے بحران کی وجہ سے پاکستان کو 170 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے-
‏ورلڈ بینک کی ۲۰۱۸ کی رپورٹ کے مطابق بجلی کے بحران اور انرجی سیکٹر کی نا اھلی کے باعث پاکستان کی جی ڈی پی کا دو فیصد حصہ انرجی کے بحران کی نذر ہو جاتا ہے – آپ اندازہ کریں جی ڈی پی ہے ہی نہیں اس میں سے بھی یہ آئی پی پی والے لے اڑتے ہیں -پاکستان میں انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ساتھ بنیادی طور پر بجلی کے جو معاہدے ماضی میں کیے گئے وہ بجلی کی ضرورت سے زائد پیداوار کے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ مہنگے داموں بھی کیے گئے۔
‏پاکستان میں بجلی کی پیداوار پر تو سرمایہ کاری کی گئی لیکن اس کی تقسیم و ترسیل کے نظام پر سرمایہ کاری نہیں ہوئی، اور اس وجہ سے بجلی پیداوار کے مرحلے سے لے کر ترسیل و تقسیم میں ضائع ہو جاتی ہے۔
‏توانائی کے شعبے سے وابستہ ماھرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بجلی مہنگی ہونے کی ایک وجہ لائن لاسز بھی ہے-خواجہ آصف کے مطابق پورے ملک میں 650 ارب روپے کی بجلی چوری ہو رہی ھے- اور حکومت اس چوری اور دوسری سبسڈی کی مد میں کل ملا کر 900 ارب روپے پاور سیکٹر کو اپنے پاس سے ادا کرتی ہے-
‏آئی پی پی کی پیمنٹ ڈالر میں ہوتی ہے- اگر قیمت خرید میں ایک cent فی یونٹ کا بھی اضافہ ھو جائے تو ٹوٹل میں ایک ارب روپیہ اضافہ ہو جائے گا- ماضی میں یہ فیصلہ کر لیا گیا تھا کہ آئی پی پی کو بجلی کی قمیت کی ادائیگی ڈالر کی بجائے روپے میں کی جائے اس طرح حکومت کو سالانہ سات سو ارب روپے کی بچت ھو گی لیکن اس فیصلے پر عمل درآمد نہ ہو سکا-آئی پی پی کے ساتھ معاھدے پاکستان کی تباھی کے اصل ذمہ دار ہے-
‏ ملک میں اس وقت بجلی کی پیداواری صلاحیت 35 ہزار میگاواٹ ہے اور مستقبل میں بجلی کی پیداوار میں مزید اضافہ بھی ہو گا- ملک میں بجلی کی کھپت ہو نہ ہو، معاھدے کے مطابق، بجلی کا ہر پیدا ہونے والا یونٹ کی قیمت حکومت کو ادا کرنی پڑتی ہے- سونے پہ سہاگہ ملک کا امیر طبقہ جنہوں نے بجلی خریدنی تھی وہ سولر پینل لگوا رھا ہے اور مہنگی خریدی جانے والی بجلی غریب کو بیچی جا رھی-
‏پاکستان کا توانائی سیکٹر گذشتہ بیس برسوں برسوں سے گردشی قرضوں تلے دبا ہوا ہے اور یہی ملکی ترقی کی راہ میں اصل مسئلہ ہے-
‏توانائی کے شعبے میں گردشی قرضوں کا حجم 2646ارب روپے تک پہنچ چکاہے –
‏معاشی بحران کے باعث 2007 سے 2013 تک حکومت نے یہ ادائیگیاں روک دیں جس کے باعث حکومت کے ذمہ ایک بڑی واجب الادا رقم جمع ہوگئی۔
‏2008 میں ان قرضوں کا حجم ساڑھے چھ ہزار ارب روپے تھا، جو 2013 میں بڑھ کر ساڑھے تیرہ ہزار ارب روپے تک جا پہنچا تھا۔جون 2018 میں توانائی کے شعبے کا گردشی قرضہ 1148 ارب روپے تھا جو کہ نومبر 2020 میں بڑھ کر 2306 ارب تک جا پہنچا۔اس وقت 2646 ارب روپے تک پہنچ چکا ھے-
‏گیس کے شعبے کا بھی گردشی قرضہ گزشتہ تین سال میں 350 ارب روپے سے 650 ارب روپے ہو گیا۔
‏پاکستان کو چین کی طرز پر نیوکلیئر پاور پلانٹ کی طرفہ توجہ دینی چاھیے-
‏⁦‪#energy‬⁩ ⁦‪#economy‬⁩ ⁦‪#PakistanEconomicCrisis

Visited 2 times, 1 visit(s) today

You might be interested in