الجھنیں

یونائیٹڈ نیشن ہو، او آئی سی، ایس سی او، برکس یا سارک ، انسانوں کی مجموعی سوچ نے مسئلے کو سلجھانے کی بجائے الجھا کر دنیا کو ہمیشہ نقصان ہی پہنچایا ہے- اکٹھے بیٹھ کر آج تک امن یا ترقی کا منصوبہ نہیں بنا-پنسلین ہو یا ریڈیو، بلب ہو یا ٹیلیفون انسانیت کی فلاح کی ساری ایجادات انفرادی کوششیں ہیں – امن کا نوبل انعام بھی زیادہ سے زیادہ دو بندوں کو مل سکا-
۲۰ صدی کےآغاز میں دنیا کالونیوں کی شکل میں چند طاقتوں کے زیر تسلط تھی- پھر سارے ذہین لیڈر اکٹھے بیٹھے اور اس کے نتیجے میں پہلی عالمی جنگ شروع ہوئی – چار سالہ طویل جنگ میں تقریبا دو کروڑ بندے مروا کر کر امریکی صدر وڈرو ولسن نے liberalism کی پروان چڑھانے کی تجویز دی کہ اب ہمیں میں مل بیٹھ کر رھنا چاہیے۔ روس اور جرمنی کو شکست ہوئی- جنگ عظیم اول کے ختم ہونے کےاگلے بیس سال تک دنیا کے یہ ترقی یافتہ ملک سوچتے رھے کہ امن کو اب آگے کیسے بڑھایا جائے اور بالاخر اس نتیجے پر پہنچے کہ ایک اور عالمی جنگ ضروری ہے- 1939 میں دوسری عالمی جنگ شروع ہوئی – 6 سال تک لڑتے رھے -4 کروڑ بندہ مروا کے دوبارہ امن کی طرف پیش قدمی شروع کر دی- دوسری جنگ عظیم میں امریکہ نے جاپان پر ایٹم بم کا تجربہ بھی کیا کہ دیکھیں تو سہی کہ یہ بم کہاں تک نقصان پہنچاتا ہے- سوا دولاکھ سویلین اس بم کے نتیجے میں لقمہ اجل بنے -1946 میں دوسری جنگ عظیم ختم ھوئی تو دنیا میں ہزاروں فیکٹریاں ، ھسپتال ، سڑکیں، سکول، شہر بھی تباہ ہو چکے تھے- انگریز محنت سے نہیں گھبراتا- یورپ ہی زیادہ تباہ ہوا تھا، دوبارہ بنا لیا اور بہت بہتر بنایا- پھر امریکہ اور روس دو بڑی سپرپاورز دنیا کے نقشے پر ابھریں – ایک نیا گلوبل آرڈر معرض وجود میں آیا – توپوں اور گولوں کی لڑائی کو خیر آباد کہہ دیا گیا اور ایک نئی قسم کی جنگ “سرد جنگ ” کا آغاز ہوا- یعنی ایک دوسرے کو نقصان تو پہنچانا ہے مگر گہری چوٹ مارنی ہے کہ نظر نہ آنے- جنگ کی نئی شکل ایجاد ہوئی – جنگ لڑنے والے بالکل زیر زمیں چلے گئے- سادہ الفاظ میں مافیاز، زیر زمین سرگرمیوں، جاسوسی، ڈرگز، جنگی سازو سامان کی نئی نئی ایجادات اور فروخت کو ترویج ملی- یہی وہ دور تھا جب پاکستان 1947 میں آزاد ہوا- دنیا دو حصوں میں بٹ رہی تھی اور پاکستان کو آزادی مل رھی تھی- یعنی کولڈ وار کی گود میں پاکستان کو آزادی ملی-بیسویں صدی میں آزادی کے ترپن 53 سال پاکستان نے کولڈ وار کے زیر سایہ گزارے اور اسی عالمی رسہ کشی کے دور میں ایٹمی طاقت بھی بنا- مشرق وسطی میں تیل بھی اسی دور میں نکلا- جیسے ہی مشرق وسطی میں تیل نکلا امریکہ اورروس نے نئی صف بندیاں کر کے دنیا کا تیل بھی نکال دیا-
پھر اکیسویں صدی کا آغاذ دھشت گردوں کے خلاف جنگ سے ہوا- اس جنگ میں دشمن ( دہشت گرد) بالکل زیر زمین تھا، اور صرف لڑنے والی فوج نظر آ رھی تھی- امریکہ نے افغانستان کو میدان جنگ چنا- اس کے بعد والی کہانی ھمیں بھولی نہیں ہو گی کیونکہ پاکستان یہ جنگ آج بھی لڑ رھا ہے- بیس سال تک افغانستان میں جنگ لڑنے کے بعد امریکہ جب افغانستان سے گیا تو پاکستان کو بہت نقصان پہنچ چکا تھا- پھر کرونا آ ، وارد ہوا- اب ایک نیا دور شروع ہونے کو ہے- دنیا میں میں نہی صف بندی جاری ہے- اب کے دشمن کمپیوٹر اور موبائل کےاندر ہے اور اس جنگ میں افراد نشانہ ہیں – یعنی ہر کوئی نشانے پر ھے- یہ جنگ فوجوں کے نہیں شہریوں کے خلاف ہے-

Visited 3 times, 1 visit(s) today

You might be interested in