آلو

ایک سابقہ کیڈٹ عتیق الرحمان
فوجی تربیت گاہ ، پی ایم اے، جانے سے پہلے میں آلو کو سبزی سمجھتا رہا اور میرا آلو سے اتنا سا ہی تعارف تھا، آلو گوشت، آلو مٹر، آلو گاجر، زیادہ ہو گیا تو آلو شوربہ- ۱۹۸۴ میں ، پی ایم اے پہنچے ابھی چند ہی گھنٹے ہوئے ھونگے، رات کا کون سا پہر تھا یاد نہیں لیکن تھا قیامت کا پہر- ہم ابھی اپنے آپ کو کوس ہی رھے تھے، پلاٹون فال ان تھی کارپورل کے کمرے کے دروازے کے عین سامنے- سردی میں ٹھٹھر کر جب قلفی بننی شروع ہو گئی تو نائٹ گاؤن پہنے ھماری ہی عمر کا اور ایک نوجوان کیڈٹ کمرے سے نکلا اور رعب دار انگریزی میں پلاٹون کو خوشخبری سنائی کہ ابھی آپ جائیں تین بجے دوبارہ فال ان ہے- شکر کیا کہ سہ پہر تین بجے تک آرام سے سوئیں گے- جیسے ہی فال ان ختم ہوا، پیچھے سے آواز آئی ” لو جی اک ھور آلو” – ھم بڑے حیران ہوئے کہ اس وقت کون کھانا تیار کر کے لے آیا- بھوک بھی بہت لگی تھی- ہم نے تفصیلات کے لئے جو کیڈٹ ھمارے ہمسائے میں بائیں طرف کھڑے تھے ان رجوع کیا تو انہوں نے عزت افزائی کی ” او یو فول ،فال ان سحری کے تین بجے یعنی اب سے ڈیڑھ گھنٹہ بعد ہے اور آلو کوئی ھانڈی نہیں ، ایک اور زائد کام ہے- یعنی نئی مصیبت ہے”- ھمیں اس تشریح سے شدید صدمہ پہنچا – وہ دن اور آج کا دن ، آلو کا شوربے ، گوشت اور مٹروں کے بغیر سنتے ہی کان کھڑے ہو جاتے ہیں- چونتیس سالہ نوکری میں اتنے آلو ملے کہ بوریاں بھر گئیں – اگر سنبھال کر رکھتے تو باقاعدہ آڑھت کر سکتے تھے- وقت کا تو پوچھیں ہی مت – پوری عمر فال ان صبح سویرے ہی ہوتا رہا- سہ پہر تین بجے صرف سپورٹس ہوتی رہیں – اب ریٹائرمنٹ کے بعد جا کے تین بجے کوئی بولے تو سمجھ آتی ھے کہ سہ پہر ہو گا-

You might be interested in