Pakistan History

چونڈہ پاکستان کے ضلع سیالکوٹ کا ایک ایسا قصبہ ہے جہاں سن 1965ء کی پاک بھارت جنگ کی سب سے بڑی ٹینکوں کی لڑائی ہوئئ۔یہ جنگ دوسری جنگ عظیم کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی تھی۔یہ جنگ دونوں ملکوں کے درمیان میں راوی اور پنجاب کے درمیانی علاقہ میں لڑی گئی۔8 ستمبر کو صبح چھ بجے بھارتی فوج نے کنڑول لائن عبور کرتے ہوئے تین کالم بناتے ہوئے پاکستانی سر زمین پر حملہ کر دیا ۔باجرہ گڑھی نخنال اور چاروہ کے مقامات سے بھارتی فوج نے ایک آرمڈ اور تین انفنٹری ڈویزن کی مدد سے حملہ شروع کیا اور 12 کلو میٹر تک بغیر کسی مذاحمت کا سامنا کیے آگے بڑھتی رھی۔اس درمیان میں پاکستانی فضائیہ نے ایک حملہ کیا لیکن کوئی خاص نقصان نہ کر سکی ۔ پاکستان کی فوج نے گڈگور کے پاس بھارتی فوج کا راستہ روکا اور 25 کیلوری کے 15 ٹینک پورے بھارتی ڈویزن کا راستہ روک کر کھڑے ہو گئے۔پہلی ہی مڈ بھیڑ میں بھارتی اپنے 3 ٹینک تباہ کرا کے دفاعی پوزیشن پر چلی گئی۔ چونڈہ کنٹرول لائ سے 30 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔14 ستمبر کو بھارت نےچونڈہ پر حملہ کیا لیکن آٹھ دن کی شدید جنگ کے باوجود چونڈہ فتح نہ کر سکی اور جنگ بندی تک اپنے 150 ٹینک تباہ کرا کے واپس لوٹ گئی

"چونڈہ" پاکستان کے ضلع سیالکوٹ کا ایک ایسا قصبہ ہے جہاں سن 1965ء کی پاک بھارت جنگ کی سب سے بڑی ٹینکوں کی لڑائی ہوئی۔ یہ جنگ دوسری جنگ عظیم کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی تھی۔ یہ جنگ دونوں ملکوں کے درمیان میں راوی اور پنجاب کے درمیانی علاقے میں لڑی گئی۔۔۔

8 ستمبر کو صبح چھ بجے بھارتی فوج نے کنڑول لائن عبور کرتے ہوئے اور تین کالم بناتے ہوئے پاکستانی سر زمین پر حملہ کر دیا ۔ باجرہ گڑھی، نخنال اور چاروہ کے مقامات سے بھارتی فوج نے ایک آرمڈ اور تین انفنٹری ڈویژنز کی مدد سے حملہ شروع کیا اور 12 کلو میٹر تک بغیر کسی مذاحمت کا سامنا کیے آگے بڑھتی رھی۔۔۔

اس دوران پاک فضائیہ نے ان پر ایک حملہ کیا لیکن ان کا کوئی خاص نقصان نہ کر سکی۔ پاکستان کی فوج نے گڈگور کے پاس بھارتی فوج کا راستہ روکا اور 25 کیلوری کے 15 ٹینک پورے بھارتی ڈویژن کا راستہ روک کر کھڑے ہو گئے۔پہلی ہی مڈ بھیڑ میں بھارتی اپنے 3 ٹینک تباہ کروا کے دفاعی پوزیشن پر چلے گئے تھے۔۔۔

چونڈہ کنٹرول لائن سے 30 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ 14 ستمبر کو بھارت نےچونڈہ پر حملہ کیا لیکن آٹھ دن کی شدید جنگ کے باوجود چونڈہ فتح نہ کر سکی اور جنگ بندی تک اپنے 150 ٹینک تباہ کروا کر واپس بھارت لوٹ گئی۔ اس جنگ میں پاک فوج کے جوانوں نے عظیم قربانیاں پیش کیں۔۔۔

جنرل ٹکا خان اس وقت چونڈہ محاز پر کمانڈ کر رہے تھے۔ دشمن کے ٹینکوں کی پوری دیوار کے سامنے پاکستان کے پاس محدود تعداد میں موجود ٹینک کچھ معنی نہیں رکھتے تھے۔ جنرل ٹکا خان نے جوانوں سے خطاب کیا اور ایک عجیب و غریب جنگی چال اپنے جوانوں کے سامنے رکھ دی۔ کہ ھم اپنے جسموں کے ساتھ بم باندھ کر دشمن کے آگے بڑھتے ٹینکوں کا راستہ روکیں گے۔۔۔

اس سرفروشی کے لیے جنرل ٹکا خان نے سب سے پہلے خود کو پیش کیا. اس کے بعد جنرل ٹکا خان نے جوانوں سے کہا کہ جو جو جوان اس جان لیوا مشن پر میرے ساتھ دفاع مادر وطن کیلیے خود کو فنا کرنا چاھتا ھے ایک قدم آگے چل کر اپنی رضامندی سے آگاہ کرے۔ اگلے ہی لمحے جنرل ٹکا خان نے دیکھا کہ سارے کے سارے جوان ایک قدم آگے بڑھ کر اس مشن پر جانے کیلیے تیار تھے۔۔۔

پھر جنرل ٹکا خان نے کہا کہ ھمیں کم تعداد میں سرفروش چاھئیں، لہذا جو جوان اپنے گھر کے چھ بھائی ھیان وہ آگے آ جائے، چند جوان آگے بڑھے، پھر انہوں نے کہا جو اپنے گھر کے پقنچ بھائی ھیں وہ جوان آگے بڑھے، ہھر مزید چند جوان آگے بڑھے۔ پھر کہا جو جوان اپنے گھر کے چار بھائی ھیں وہ آگے بڑھیں۔ تب مزید کئی جوان آگے بڑھے۔۔۔

یوں پاک فوج کے ان جانبازوں کا ایک "فنا فی اللہ" دستہ تیار کیا گیا جنھوں نے اپنے سینوں کے ساتھ بم باندھ کر دشمن کے ٹینکوں کے نیچے جا کر لیٹ گئے۔ ھوا کچھ یوں کہ دشمن پاک فوج کی جانب سے اچانک مزاحمت ختم ھو جانے پر بہت زیادہ خوش تھا۔ کہ اب شاید پاک فوج جنگ ہار رہی ھے۔ اور پسپا ھو رہی ھے۔ دشمن اپنی پوری طاقت سے آگے بڑھنے لگا۔۔۔

جیسے ہی دشمن کے ٹینک پاک فوج کے جنگی جال میں پھنس گئے اسی وقت وطم عزیز کے سرفروش بیٹوں نے (جو اپنے جسموں کے ساتھ بم باندھ کر ٹینکوں کے راست میں لیٹے ھوئے تھے) خود کو اڑانا شروع کر دیا اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے پل بھر میں بھارت ٹینکوں کے پرخچے اڑنے لگے. دشمن شدید بوکھلاہٹ کا شکار ھو گیا۔۔۔

خدا کے نام پر کٹنے کی لذت کیا بتاؤں میں!!!!!!!!!! سبھی جنت میں دیکھیں گے جوانی خوبرو میری

اچانک بدلتی صورتحال کو دیکھتے ھوئے دشمن نے باقی ماندہ ٹینکوں کو واپسی کی راہ پر ڈال دیا اور یوں مکّار بھارتی فوج جس نے بغیر کسی اعلان کے اور بغیر کسی کشیدگی کے اچسنک پاکستان پر حملہ کر دیا تھا۔ اب دم دبا کر واپس بھاگنے لگی۔ اس طرح وطن عزیز کے ان بہادر سرفروش بیٹوں نے اپنی جانیں نچھاور کر کے وطن عزیز کا دفاع کیا۔۔۔

انہی بہادر اور جانثار سپاہیوں کی بےمثال قربانیوں کی بدولت تاریخ میں آج چونڈہ کو "ٹینکوں کا قبرستان" کے نام سے یاد کیا ھے۔

پاکستانی 24بریگیڈ جو چونڈہ کا دفاع کررہا تھا۔یہ دفاع 4،پلٹنوں پر مشتمل تھا۔ جو 25کیولری، 2پنجاب رجمنٹ، 14بلوچ رجمنٹ(چونڈہ بٹالین) اور 3ایف ایف رجمنٹ پر مشتمل تھا

چونڈہ پاکستان کے ضلع سیالکوٹ کا ایک ایسا قصبہ ہے جہاں سن 1965ء کی پاک بھارت جنگ کی سب سے بڑی ٹینکوں کی لڑائی ہوئئ۔یہ جنگ دوسری جنگ عظیم کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی تھی۔یہ جنگ دونوں ملکوں کے درمیان میں راوی اور پنجاب کے درمیانی علاقہ میں لڑی گئی۔8 ستمبر کو صبح چھ بجے بھارتی فوج نے کنڑول لائن عبور کرتے ہوئے تین کالم بناتے ہوئے پاکستانی سر زمین پر حملہ کر دیا ۔باجرہ گڑھی نخنال اور چاروہ کے مقامات سے بھارتی فوج نے ایک آرمڈ اور تین انفنٹری ڈویزن کی مدد سے حملہ شروع کیا اور 12 کلو میٹر تک بغیر کسی مذاحمت کا سامنا کیے آگے بڑھتی رھی۔اس درمیان میں پاکستانی فضائیہ نے ایک حملہ کیا لیکن کوئی خاص نقصان نہ کر سکی ۔ پاکستان کی فوج نے گڈگور کے پاس بھارتی فوج کا راستہ روکا اور 25 کیلوری کے 15 ٹینک پورے بھارتی ڈویزن کا راستہ روک کر کھڑے ہو گئے۔پہلی ہی مڈ بھیڑ میں بھارتی اپنے 3 ٹینک تباہ کرا کے دفاعی پوزیشن پر چلی گئی۔ چونڈہ کنٹرول لائ سے 30 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔14 ستمبر کو بھارت نےچونڈہ پر حملہ کیا لیکن آٹھ دن کی شدید جنگ کے باوجود چونڈہ فتح نہ کر سکی اور جنگ بندی تک اپنے 150 ٹینک تباہ کرا کے واپس لوٹ گئی

"چونڈہ" پاکستان کے ضلع سیالکوٹ کا ایک ایسا قصبہ ہے جہاں سن 1965ء کی پاک بھارت جنگ کی سب سے بڑی ٹینکوں کی لڑائی ہوئی۔ یہ جنگ دوسری جنگ عظیم کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی تھی۔ یہ جنگ دونوں ملکوں کے درمیان میں راوی اور پنجاب کے درمیانی علاقے میں لڑی گئی۔۔۔

8 ستمبر کو صبح چھ بجے بھارتی فوج نے کنڑول لائن عبور کرتے ہوئے اور تین کالم بناتے ہوئے پاکستانی سر زمین پر حملہ کر دیا ۔ باجرہ گڑھی، نخنال اور چاروہ کے مقامات سے بھارتی فوج نے ایک آرمڈ اور تین انفنٹری ڈویژنز کی مدد سے حملہ شروع کیا اور 12 کلو میٹر تک بغیر کسی مذاحمت کا سامنا کیے آگے بڑھتی رھی۔۔۔

اس دوران پاک فضائیہ نے ان پر ایک حملہ کیا لیکن ان کا کوئی خاص نقصان نہ کر سکی۔ پاکستان کی فوج نے گڈگور کے پاس بھارتی فوج کا راستہ روکا اور 25 کیلوری کے 15 ٹینک پورے بھارتی ڈویژن کا راستہ روک کر کھڑے ہو گئے۔پہلی ہی مڈ بھیڑ میں بھارتی اپنے 3 ٹینک تباہ کروا کے دفاعی پوزیشن پر چلے گئے تھے۔۔۔

چونڈہ کنٹرول لائن سے 30 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ 14 ستمبر کو بھارت نےچونڈہ پر حملہ کیا لیکن آٹھ دن کی شدید جنگ کے باوجود چونڈہ فتح نہ کر سکی اور جنگ بندی تک اپنے 150 ٹینک تباہ کروا کر واپس بھارت لوٹ گئی۔ اس جنگ میں پاک فوج کے جوانوں نے عظیم قربانیاں پیش کیں۔۔۔

جنرل ٹکا خان اس وقت چونڈہ محاز پر کمانڈ کر رہے تھے۔ دشمن کے ٹینکوں کی پوری دیوار کے سامنے پاکستان کے پاس محدود تعداد میں موجود ٹینک کچھ معنی نہیں رکھتے تھے۔ جنرل ٹکا خان نے جوانوں سے خطاب کیا اور ایک عجیب و غریب جنگی چال اپنے جوانوں کے سامنے رکھ دی۔ کہ ھم اپنے جسموں کے ساتھ بم باندھ کر دشمن کے آگے بڑھتے ٹینکوں کا راستہ روکیں گے۔۔۔

اس سرفروشی کے لیے جنرل ٹکا خان نے سب سے پہلے خود کو پیش کیا. اس کے بعد جنرل ٹکا خان نے جوانوں سے کہا کہ جو جو جوان اس جان لیوا مشن پر میرے ساتھ دفاع مادر وطن کیلیے خود کو فنا کرنا چاھتا ھے ایک قدم آگے چل کر اپنی رضامندی سے آگاہ کرے۔ اگلے ہی لمحے جنرل ٹکا خان نے دیکھا کہ سارے کے سارے جوان ایک قدم آگے بڑھ کر اس مشن پر جانے کیلیے تیار تھے۔۔۔

پھر جنرل ٹکا خان نے کہا کہ ھمیں کم تعداد میں سرفروش چاھئیں، لہذا جو جوان اپنے گھر کے چھ بھائی ھیان وہ آگے آ جائے، چند جوان آگے بڑھے، پھر انہوں نے کہا جو اپنے گھر کے پقنچ بھائی ھیں وہ جوان آگے بڑھے، ہھر مزید چند جوان آگے بڑھے۔ پھر کہا جو جوان اپنے گھر کے چار بھائی ھیں وہ آگے بڑھیں۔ تب مزید کئی جوان آگے بڑھے۔۔۔

یوں پاک فوج کے ان جانبازوں کا ایک "فنا فی اللہ" دستہ تیار کیا گیا جنھوں نے اپنے سینوں کے ساتھ بم باندھ کر دشمن کے ٹینکوں کے نیچے جا کر لیٹ گئے۔ ھوا کچھ یوں کہ دشمن پاک فوج کی جانب سے اچانک مزاحمت ختم ھو جانے پر بہت زیادہ خوش تھا۔ کہ اب شاید پاک فوج جنگ ہار رہی ھے۔ اور پسپا ھو رہی ھے۔ دشمن اپنی پوری طاقت سے آگے بڑھنے لگا۔۔۔

جیسے ہی دشمن کے ٹینک پاک فوج کے جنگی جال میں پھنس گئے اسی وقت وطم عزیز کے سرفروش بیٹوں نے (جو اپنے جسموں کے ساتھ بم باندھ کر ٹینکوں کے راست میں لیٹے ھوئے تھے) خود کو اڑانا شروع کر دیا اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے پل بھر میں بھارت ٹینکوں کے پرخچے اڑنے لگے. دشمن شدید بوکھلاہٹ کا شکار ھو گیا۔۔۔

خدا کے نام پر کٹنے کی لذت کیا بتاؤں میں!!!!!!!!!! سبھی جنت میں دیکھیں گے جوانی خوبرو میری

اچانک بدلتی صورتحال کو دیکھتے ھوئے دشمن نے باقی ماندہ ٹینکوں کو واپسی کی راہ پر ڈال دیا اور یوں مکّار بھارتی فوج جس نے بغیر کسی اعلان کے اور بغیر کسی کشیدگی کے اچسنک پاکستان پر حملہ کر دیا تھا۔ اب دم دبا کر واپس بھاگنے لگی۔ اس طرح وطن عزیز کے ان بہادر سرفروش بیٹوں نے اپنی جانیں نچھاور کر کے وطن عزیز کا دفاع کیا۔۔۔

انہی بہادر اور جانثار سپاہیوں کی بےمثال قربانیوں کی بدولت تاریخ میں آج چونڈہ کو "ٹینکوں کا قبرستان" کے نام سے یاد کیا ھے۔

پاکستانی 24بریگیڈ جو چونڈہ کا دفاع کررہا تھا۔یہ دفاع 4،پلٹنوں پر مشتمل تھا۔ جو 25کیولری، 2پنجاب رجمنٹ، 14بلوچ رجمنٹ(چونڈہ بٹالین) اور 3ایف ایف رجمنٹ پر مشتمل تھا

53 3

YouTube Video UExPTGNVSlIyZEpSZE9yZElSSzg1SmJRNWc2eXBlU1pBZy41NkI0NEY2RDEwNTU3Q0M2

١٤ستمبر ١٩٦٥ - چونڈہ، انڈو پاک وار

سوچ وچار - Soch Vichar TV August 31, 2022 4:05 pm

The Indo-Pakistani War of 1965 or the Second Kashmir War[17] was a culmination of skirmishes that took place between April 1965 and September 1965 between Pakistan and India. The conflict began following Pakistan's Operation Gibraltar, which was designed to infiltrate forces into Jammu and Kashmir to precipitate an insurgency against Indian rule, It became the immediate cause of the war.The seventeen-day war caused thousands of casualties on both sides and witnessed the largest engagement of armored vehicles and the largest tank battle since World War II. Hostilities between the two countries ended after a ceasefire was declared through UNSC Resolution 211 following a diplomatic intervention by the Soviet Union and the United States, and the subsequent issuance of the Tashkent Declaration. Much of the war was fought by the countries' land forces in Kashmir and along the border between India and Pakistan. This war saw the largest amassing of troops in Kashmir since the Partition of India in 1947, a number that was overshadowed only during the 2001–2002 military standoff between India and Pakistan. Most of the battles were fought by opposing infantry and armoured units, with substantial backing from air forces, and naval operations.

India had the upper hand over Pakistan when the ceasefire was declared.Although the two countries fought to a standoff, the conflict is seen as a strategic and political defeat for Pakistan, as it had neither succeeded in fomenting insurrection in Kashmir nor had it been able to gain meaningful support at an international level.

Internationally, the war was viewed in the context of the greater Cold War, and resulted in a significant geopolitical shift in the subcontinent.Before the war, the United States and the United Kingdom had been major material allies of both India and Pakistan, as their primary suppliers of military hardware and foreign developmental aid. During and after the conflict, both India and Pakistan felt betrayed by the perceived lack of support by the western powers for their respective positions; those feelings of betrayal were increased with the imposition of an American and British embargo on military aid to the opposing sides. As a consequence, India and Pakistan openly developed closer relationships with the Soviet Union and China, respectively. The perceived negative stance of the western powers during the conflict, and during the 1971 war, has continued to affect relations between the West and the subcontinent. In spite of improved relations with the U.S. and Britain since the end of the Cold War, the conflict generated a deep distrust of both countries within the subcontinent which to an extent lingers to this day.

The Indo-Pakistani War of 1965 or the Second Kashmir War[17] was a culmination of skirmishes that took place between April 1965 and September 1965 between Pakistan and India. The conflict began following Pakistan's Operation Gibraltar, which was designed to infiltrate forces into Jammu and Kashmir to precipitate an insurgency against Indian rule, It became the immediate cause of the war.The seventeen-day war caused thousands of casualties on both sides and witnessed the largest engagement of armored vehicles and the largest tank battle since World War II. Hostilities between the two countries ended after a ceasefire was declared through UNSC Resolution 211 following a diplomatic intervention by the Soviet Union and the United States, and the subsequent issuance of the Tashkent Declaration. Much of the war was fought by the countries' land forces in Kashmir and along the border between India and Pakistan. This war saw the largest amassing of troops in Kashmir since the Partition of India in 1947, a number that was overshadowed only during the 2001–2002 military standoff between India and Pakistan. Most of the battles were fought by opposing infantry and armoured units, with substantial backing from air forces, and naval operations.

India had the upper hand over Pakistan when the ceasefire was declared.Although the two countries fought to a standoff, the conflict is seen as a strategic and political defeat for Pakistan, as it had neither succeeded in fomenting insurrection in Kashmir nor had it been able to gain meaningful support at an international level.

Internationally, the war was viewed in the context of the greater Cold War, and resulted in a significant geopolitical shift in the subcontinent.Before the war, the United States and the United Kingdom had been major material allies of both India and Pakistan, as their primary suppliers of military hardware and foreign developmental aid. During and after the conflict, both India and Pakistan felt betrayed by the perceived lack of support by the western powers for their respective positions; those feelings of betrayal were increased with the imposition of an American and British embargo on military aid to the opposing sides. As a consequence, India and Pakistan openly developed closer relationships with the Soviet Union and China, respectively. The perceived negative stance of the western powers during the conflict, and during the 1971 war, has continued to affect relations between the West and the subcontinent. In spite of improved relations with the U.S. and Britain since the end of the Cold War, the conflict generated a deep distrust of both countries within the subcontinent which to an extent lingers to this day.

20 0

YouTube Video UExPTGNVSlIyZEpSZE9yZElSSzg1SmJRNWc2eXBlU1pBZy4wMTcyMDhGQUE4NTIzM0Y5

Jassar operation 1965 Pak-India War

سوچ وچار - Soch Vichar TV September 2, 2022 9:21 am

پاک فوج اور عوام ایک

سوچ وچار - Soch Vichar TV September 8, 2022 11:55 am

Dushman ki humain takseem krny ki koshishain naakam

سوچ وچار - Soch Vichar TV April 13, 2023 9:05 am

Jhoot Gwah or Insaaf

سوچ وچار - Soch Vichar TV April 13, 2023 9:08 am

Disinfolab

سوچ وچار - Soch Vichar TV April 13, 2023 9:39 am

Propaganda se bachain

سوچ وچار - Soch Vichar TV April 13, 2023 9:43 am