ابراھم میسلو کا نظریہ


تحریر ؛عتیق الرحمان
قومی اتفاق رائے ریاست کی ترقی اور ملکی دفاع میں اھم کردار ادا کرتی ہے- لیکن ریاست کی ترقی سے قبل شہریوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنا بہت ضروری ہے- جب تک وہ ضروریات پوری نہ ہوں کوئی بھی شخص اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار نہیں لا سکتا-اور جب تک شخصی صلاحیتیں بروئے کار نہ لائی جائیں معاشرتی ترقی ممکن نہیں -۱۹۴۲ میں ابراھم ماسلو نے درجہ بندی کے لحاظ سے ان ضروریات کو پیش کیا – کسی بھی انسان کی پہلی ضرورت ہے کھانا پینا،پہننا، چھت اور سونا شامل ہے- جب یہ میسر آ جائیں تو اس کے بعد تحفظ کا احساس سب سے پہلی ضرورت ہوتی ہے- جب روزی روٹی ،چھت اور حفاظت کا انتظام ہو جائے تو پھر سماجی ضروریات کی باری آتی ہے- انسان اکیلا نہیں رہ سکتا اسی لئے سوشل اینمل کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے- اسے کہانیاں سننے اور سنانے ، دکھ سکھ بانٹنے اور ملنے جلنے کی طلب ہوتی ہے- اسی لئے ابراھم ماسلو کے مقالہ کے تیسرے مرحلے میں محبت اور چاھے جانے کی لگن سر ابھارتی ہے اور انسان لسی خاندان ،گروہ اور طبقے سے جڑنا پسند کرتا ہے- اس کے بعد کا مرحلہ عزت نفس کا ہے -ان تمام سہولیات کے حصول کے بعد انسان اپنی انا، عزت اور احترام کی جستجو کرتا ہے اور آخری مرحلہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا ہے –
ھماری جسمانی ضروریات کھانا, سونا، چھت اور حفاظت میں سے کھانے پینے کی ضرورت پوری کرنے میں ریاست ناکام ہے- سونا ایک فطری عمل ہے- چھت بنانے کی ذمہ داری بھی انفرادی ہی ھے- بیرونی اور اندرونی خطرات سے حفاظت کی ذمہ داری فوج بدرجہ اتم پوری کر رہی ہے- ہماری معاشر تی ساخت تیسرے پائیدان پر موجود محبت اور بھائی چارے کو سنبھالے ہوئے ہے- جوائنٹ فیملی سسٹم اور رشتے داریاں، دوستیاں اور ملن جلن ، شادی بیاہ، خوشی غمی ہمارے مشرقی معاشرے کی اولین خصوصیت ہے- لیکن سوشل میڈیا پر منفی رویوں کی وجہ سے یہاں بھی خطرات لاحق ہو چکے ہیں- رشتوں میں دراڑیں پڑنا شروع ہو چکی ہیں – شہری اپنی انا کی بقا اور مکمل صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لئے تگ و دو کر رھے ہیں لیکن وسائل مہیا نہیں ہیں- ماضی اور حال میں معیشت کیلئے کئے گئے فیصلے اور غلط پالیسیاں اور پھر بیرونی دباؤ ریاست کو اس نہج پر لے آئے ہیں کہ شہریوں کی خوراک مہیا کی بنیادی ضرورت بھی پوری کرنا ریاست کے لئے مشکل ہو رہا ہے- وسائل کی تقسیم میں ناہمواری غریب آدمی کی دو وقت کی روٹی میں سب سے بڑی روکاوٹ ہے- اور یہیں سے باقی مسائل جڑ پکڑتے ہیں اور یہی شخصی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور قومی اتفاق رائے نہ ہونے کی بنیادی وجہ بھی-

About The Author

You might be interested in

Post A Comment For The Creator: vicharkisoch

Your email address will not be published. Required fields are marked *