امریکا، برطانیہ اور یورپی یونین کے بعد نیوزی لینڈ کا بھی ٹک ٹاک پر پابندی کا اعلان

امریکا، برطانیہ، کینیڈا اور یورپی یونین کے بعد نیوزی لینڈ نے بھی  پارلیمانی نیٹ ورک کے ساتھ منسلک تمام ڈیوائسز پر ٹک ٹاک کے استعمال پرپابندی عائد کر دی۔

نیوزی لینڈ کے پارلیمانی سروسز کے چیف ایگزیکٹ رفائل گونزالز مونٹیرو کا کہنا تھا کہ سائبر سکیورٹی کی تجویز کے بعد پابندی کا فیصلہ آنے ماہرین اور دیگر ممالک اور حکومتوں سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔ تاہم ایسے لوگوں کیلئے ٹک ٹاک کی دستیابی کے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے جنہیں اپنا کوئی کام کرنے کیلے اس ایپلی کیشن کی ضرورت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ دستیاب معلومات کی روشنی میں ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ نیوزی لینڈ کے موجودہ پارلیمانی ماحول کی سکیورٹی کو کسی صورت خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا، پابندی کا اطلاق 31 مارچ سے ہو گا۔

اس سے قبل سکیورٹی خدشات کو جواز بنا کر امریکا، کینیڈا، بیلجیئم اور یورپی کمیشن پہلے ہی ٹک ٹاک پر پابندی لگا چکے ہیں۔

برطانیہ کے بعد نیوزی لینڈ کی جانب سے ٹک ٹاک پر پابندی کے فیصلے پر اپنے رد عمل میں چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ان دونوں ممالک کو بھی  قومی سلامتی کا مفہوم  بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کرنا چاہیے اور تمام ممالک کی کمپنیوں کو ایک جیسا مسابقتی ماحول مہیا کرنا چاہیے۔

You might be interested in