انسانی زندگی میں خوشی کا راز کس میں پوشیدہ ہے؟ ہارورڈ کی 85 سالہ تحقیق کے نتائج

مثبت تعلقات لوگوں کو زیادہ خوش اور صحت مند بناتے ہیں اور اسی سے ان کی عمریں لمبی ہوتی ہیں،رپورٹ

1938 میں ہارورڈ کے محققین نے یہ جاننے کے لیے دہائیوں پر محیط مطالعہ شروع کیا کہ خوشی کا اصل راز کس میں پنہاں ہے۔ محققین نے دنیا بھر سے 724 شرکا سے صحت کے ریکارڈ اکٹھے کیے اور دو سال کے وقفوں سے ان کی زندگی کے بارے میں تفصیلی سوالات پوچھے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ہاروڈ کی اس تحقیق میں خوشی کے تصور کے بارے میں ہمارے خیالات کے برعکس نتیجہ سامنے آیا۔ ہم عام طور پر خوشی کا راز پیشہ ورانہ کامیابی، پیسے، ورزش یا صحت مند غذا سے جوڑتے ہیں مگراس تحقیق میں ایسا نہیں ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے 85 سال کے مطالعے میں یہ بات سامنے آئی کہ مثبت تعلقات لوگوں کو زیادہ خوش اور صحت مند بناتے ہیں اور اسی سے ان کی عمریں لمبی ہوتی ہیں۔مطالعہ نے دریافت کیا کہ تعلقات ہمیں جسمانی طور پر متاثر کرتے ہیں۔ مطالعہ کے پیچھے محققین رابرٹ والڈنگر اور مارک شلز نے پوچھا کہ جب آپ کو لگتا ہے کہ بات چیت کے دوران کسی نے آپ کو اچھی طرح سمجھا ہے، یا رومانوی دور میں نیند کی کمی کی وجہ سے آپ کو تازگی محسوس ہوتی ہے۔محققین نے اس بات پر زور دیا کہ یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ آپ کے تعلقات صحت مند اور متوازن ہیں۔ انہوں نے سماجی تندرستی پر عمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔اس کے برعکس جو خیال کیا جاتا ہے کہ صرف جسمانی صحت اور دوستانہ تعلقات قائم کرنے سے خوشی ملتی ہے۔ ایسا نہیں بلکہ سماجی تندرستی ضروری ہے۔ ہماری سماجی زندگی ایک زندہ نظام ہے اور اسے مشق کی ضرورت ہوتی ہے۔یقینی طور پر، سماجی تندرستی کے لیے اپنے رشتوں کی قدر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اپنے ساتھ ایماندار ہونے کے بارے میں کہ ہم اپنا وقت کہاں خرچ کر رہے ہیں اور کیا ہم ان رابطوں کی پرورش کر رہے ہیں جو ہماری ترقی میں مدد کرتے ہیں۔محققین کا کہنا تھا کہ انسان سماجی مخلوق ہیں اور ہم میں سے ہر فرد بطور فرد وہ سب کچھ فراہم نہیں کر سکتا جس کی اسے اپنے لیے ضرورت ہے، اس لیے ہمیں دوسروں کی ضرورت ہے کہ وہ ہمارے ساتھ بات چیت کریں اور ہماری مدد کریں۔

You might be interested in