بھارت کی سماجی اور سیاسی خرابیاں عالمی ترقی اور خوشحالی کے لیے خطرے کی گھنٹی

تحریر: عامر جہانگیر

مصنف عالمی مسابقت، رسک اور ترقی کے ساتھ ساتھ اسٹریٹجک کمیونیکیشن کے ماہر ہیں۔ ان سے aj@mishal.com.pk پر رابطہ اور @amirjahangir پر ٹویٹس کیے جا سکتے ہیں۔

اس سال ڈیووس میں سالانہ اجلاس سے قبل ورلڈ اکنامک فورم کی جاری کردہ گلوبل رسک رپورٹ 2023 میں کچھ ایسے اہم عوامل کی نشاندہی کی گئی ہے جو ہندوستان کی ایسی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ ہندوستان مستقبل میں عالمی اقتصادی استحکام کے لیے سنگین خطرات کا باعث ہوگا۔

2010 کی دہائی میں ہندوستان میں جی ڈی پی اور حکومتی بجٹ کے مطابق عالمی فوجی اخراجات میں اضافہ دیکھا گیا (اخراجات کا 5%، 1990 کی دہائی کے اوائل میں 12% سے کم) تاہم، آج کل، جی ڈی پی کے بڑھتے تناسب سے عالمی فوجی اخراجات بھی بڑھ رہے ہیں، اس کی وجہ بنیادی طور پر امریکہ، ایران، روس، ہندوستان، چین اور سعودی عرب کی جانب سے دفاع پر بہت زیادہ اخراجات ہیں۔ ہندوستان نے وزارت دفاع (MoD) کے لیے مختص رقم میں 9.8 فیصد اضافہ کرکے INR 5.25 ٹریلین (تقریباً 70.6 بلین امریکی ڈالر) ظاہر کیا ہے۔ تاہم، اس میں وزارت دفاع کے اخراجات کے دو اہم جزو شامل نہیں ہیں۔ ان میں دفاعی پنشن اوروزارت دفاع [سول] ہیڈز شامل ہیں جن کا حساب کتاب اس سے الگ کیا جاتا ہے۔

آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے مشترکہ اعداد و شمار کے مطابق، انڈین وزارت دفاع کی تمام مختص رقم، اصل یا مجموعی، یہ ہندوستان کے حقیقی دفاعی اخراجات کی عکاس نہیں ہیں۔ کچھ نمایاں اخراجات، بالخصوص چاروں بارڈر گارڈنگ فورسز (BGFs) اور ہندوستان کے دفاع سے متعلق جوہری، خلائی اور سائبر اسپیس سرگرمیوں پروزارت دفاع سے باہر کچھ دوسری وزارتوں یا محکموں کے ذریعے اخراجات کیے جاتے ہیں۔ اس طرح ہندوستان کے حقیقی دفاعی اخراجات اس سے کہیں زیادہ ہیں جو وزارت دفاع کے لیے مختص بجٹ میں ظاہر کیے جاتے ہیں۔ جدول 1 میں وزارت دفاع اور ان چاروں BGFs کا خالص بجٹ دکھایا گیا ہے جو وزارت داخلہ (MHA) کا حصہ ہیں۔ جیسا کہ دیکھا جا سکتا ہے، ہندوستان کے 5.7 ٹریلین روپے کے بڑے دفاعی بجٹ میں سے تقریباً 8 فیصد،وزارت داخلہ کے ذریعے، ملک کی بیرونی سرحدوں کے دفاع کے لیے خرچ کیا جاتا ہے۔ دفاعی بجٹ کی تقسیم درج ذیل ہے:

ہندوستان کے دفاعی بجٹ -232022 کی تقسیم

وزارتجزوINR بلینکل %CGE کا %% جی ڈی پی
وزارت دفاع (MoD)دفاعی سروسز کے تخمینے (DSE)3853.70689.771.49
دفاعی پنشن1196.96213.030.46
MoD (سول)201.003.50.510.08
MoD ٹوٹل5251.669213.312.04
وزارت داخلہ (MHA)بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف)227.184.00.580.09
انڈو تبت بارڈر پولیس (ITBP)74.611.30.190.03
آسام رائفلز (AR)66.581.20.170.03
شاستر سیما بال (SSB)76.541.30.190.03
ایم ایچ اے ٹوٹل444.9281.130.17
 کل دفاعی بجٹ5696.5810014.442.21

ہندوستانی فوج نے اس بات کا انکشاف  کیا تھا کہ اس کا 68 فیصد سامان ‘ونٹیج کیٹیگری’، 24 فیصد موجودہ اور 8 فیصد اسٹیٹ آف آرٹ گروپنگ میں ہے۔ اس کے نتیجے میں، ناکافی فنڈز یقینی طور پر اس تشویشناک حالت کا ازالہ نہیں کر رہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف اگلے 8-10 سالوں کے دوران آلات کو تبدیل کرنے کے مد میں ہندوستان کے دفاعی بجٹ میں اوسطاً 8%-10% سالانہ اضافہ ہو گا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس وقت ہندوستان کو اپنی غذائی قلت کا شکار آبادی کو سنبھالنے کی اشد ضرورت ہے۔

تاہم، انسانی بحرانوں اور ریاستی عدم استحکام کے پیش نظر، پانی کو ہتھیار اور ہدف کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جو بھارت، پاکستان اور افغانستان میں ماضی کے آبی تنازعات اور دہشت گردی کی عکاسی کرتا ہے۔

12,000 سے زیادہ عالمی کاروباری ماہرین کو، ورلڈ اکنامک فورم پر یہ سوال پوچھا کہ “اگلے دو سالوں میں ان کے ملک کو کون سے پانچ بڑے خطرات کا سامنا ہوگا؟” انہیں 35 خطرات کی فہرست میں سے پانچ کی نشاندہی کرنے کے لیے کہا گیا۔ ہندوستان کے سب سے بڑے خطرات میں ڈیجیٹل ناہمواری، سماجی ہم آہنگی کاخاتمہ اور موسمیاتی تبدیلیشناخت کیے گئے جن کے عالمی اثرات ہیں۔

ہندوستان کو ڈیجیٹل ناہمواریکے ساتھ ساتھ اس کے شہریوں کو ڈیجیٹل خدمات تک رسائی کی کمی کا سامنا ہے۔ اس شعبے میں کم سرمایہ داری، ڈیجیٹل مہارت میں کمی، ناکافی قوت خرید، یا ٹیکنالوجیز پر حکومتی پابندیاںدراصل ڈیجیٹل نیٹ ورکس اور ٹیکنالوجیز تک غیرمساوی رسائی اور ان کے انقطاع کا باعث ہیں۔ ہندوستان میں دیہیشہری ڈیجیٹل تقسیم وہاں سماجی، اقتصادی اور سیاسی انتشار کا باعث ہوسکتی ہے۔ 2021-22 میں 13 فیصد کی نمایاں (ڈیجیٹل) شرح نمو کے باوجود، ہندوستان کی شہری آبادی کے 67 فیصد کے مقابلے میں دیہی آبادی کا صرف 31 فیصد انٹرنیٹ استعمال کرتا ہے۔

آئی سی ٹی اور انٹرنیٹ تک رسائی اور استعمال میں ڈیجیٹل تقسیم نے تین اہم شعبوں تعلیم، صحت اور مالیات پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ایک ایسا ملک جو معاشی و اقتصادی عدم مساوات سے دوچار ہو، وہاں ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو ورثے میں ملے مسائلکا علاج قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس حقیقت کے پیش نظر یہ پہلو اس وقت اور بھی نمایاں ہوجاتا ہے جب نصف آبادی کے پاس گیجٹس ہوں نہ انٹرنیٹ تک رسائی اور نہ ہی ڈیجیٹل ماحول میں جانے کا طریقہ کار۔ اس صورتحال میں، ڈیجیٹلازیشن کا عمل ناہمواری کو جنم دیتا ہے، باقیوں کو چھوڑ کر صرف ڈیجیٹل طور پر منسلک افراد کے لیے سود مند، اور بعض صورتوں میں، پہلے سے موجود عدم مساوات کو مزید بڑھاتا ہے۔

اعداد و شمار میں ہندوستان میں امیرغریب، شہری دیہی علاقوں، مردوں عورتوں اور مختلف ذاتوں اور مذہبی گروہوں کے درمیان واضح ڈیجیٹل تقسیم کا ثبوت ملتا ہے۔ یہ تقسیم اس کیموجودہ سماجی اقتصادی عدم مساوات کی آئینہ دار ہے- اس کا مطلب یہ ہے کہ اکثر پسماندہ گروہوں کو سب سے کم ڈیجیٹلائز کیا گیا ہے جبکہ مراعات یافتہ طبقات ڈیجیٹلائزیشن کے فوائد سے مستفید ہورہے ہیں۔اسی طرح وہاں دیہی اور شہری علاقوں میں ڈیجیٹل تقسیم بھی نمایاں ہے۔

Oxfam Reportبعنوان ” انڈین عدم مساوات 2022 ” یہ ظاہر کرتی ہے کہ ہندوستانی سرکار اپنے فلیگ شپ پروگرام یعنی ڈیجیٹل انڈیا کو فروغ دے رہی ہے۔ اس کا مقصد ہندوستان کو ڈیجیٹل طور پر ایک بااختیار معاشرے اور نالج اکانومی میں تبدیل کرنا ہے۔ اس کے لیے حکومت اپنے شہریوں کو اپنی خدمات کی فراہمی کے لیے نئی ٹیکنالوجیز استعمال کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے ایانڈیکس (2022) کے مطابق ایگورنمنٹ کے تین اہم پہلوئوںجن میں آن لائن خدمات کی فراہمی، ٹیلی کمیونیکیشن رابطہ کاری اور لوگوں کی صلاحیت سازی ایسا جامع پیمانہ ہے، جس میں ہندوستان 193 ممالک میں 105 ویں نمبر پر ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈیجیٹل انڈیا کی بدولتلوگوں کے سرمائے میں اضافے اور آن لائن خدمات کی فراہمی کے معاملے میں ہندوستان کا شمار اعلیٰ سطح پر کیا جاتا ہے، لیکن یہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لحاظ سے نسبتاً کم درجے سے بھی پیچھے ہے۔ اس میں ابھی بھی ایسے لوگوں کو فائدہ پہنچانے کی گنجائش ہے جو تکنیکی علم اور ICTs تک رسائی رکھتے ہیں لیکن اس میں بھی ڈیجیٹل طور پر کٹی ہوئی آبادی کے محروم رہ جانے کا خطرہ موجود ہے۔ آبادیوں کے درمیان ڈیجیٹل تقسیم اور بعض کا اس عمل سے اخراج، معاشی، مذہبی، گروہی، سماجی تقسیم کے ساتھ ساتھحصول تعلیم کے مواقع کو بھی محدود کرے گا۔

علاقائی اورعالمی سطح پر وسائل کی جغرافیائی و سیاسی کشمکش بھی ایک خطرہ ہے جسے ہندوستان کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔ عالمی اور علاقائی طاقتوں کی طرف سے جغرافیائی سیاسی مفادات اور اثر و رسوخ کے لیے مصنوعات، خدمات، یا ٹیکنالوجی کو محدود کرنا اور اقتصادی مفاد کو دوگنا کرنے کے لیے اقتصادی لیورز کی تعیناتی قوموں کے درمیان ایک چیلنج ہو سکتی ہے۔ ان اہم مسائل پر ہندوستانی قیادت کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس میں عالمی منڈی کے لیے کرنسی کے اقدامات، سرمایہ کاری اور انسانی سرمائے تک رسائی اور قدرتی وسائل جیسے اقدامات قابل ذکر ہیں۔ بات یہی تک محدود نہیں بلکہ ہندوستان کو ٹیکسٹائل اور انفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز میں خاص طور پر چین، برازیل اور روس کے ساتھ مقابلے کا سامنا ہے۔ اس صورتحال نے اسے ایک طرح سے تصادم کے راستے پر ڈال دیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ سمندری تجارت اور طاقت کے توازن کو یقینی بنانے کے لیے بحر ہند اور جنوبی چینکے سمندری علاقےپر غلبہ حاصل کرنے کی دوڑ بھی لگ گئی ہے۔

اس وقت ہندوستان میں 270 ملین سے زیادہ گھرانوں کو معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے زیادہ تر آبادی کو اپنے موجودہطرز زندگی کو برقرار رکھناکافی مشکل ہوچکا ہے۔ 2019-2021 کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان کی تقریباً 16.4 فیصد آبادی غربت کا شکار ہے، اس کی اوسط شدت 42 فیصد ہے۔ تقریباً 4.2 فیصد آبادی شدید غربت میں زندگی گزاررہی ہے۔ ہندوستان کی 1.4 بلین سے زیادہ آبادی میں سے تقریباً 60% یومیہ $3.10 سے کم پر گزارہ کرتے ہیں جو کہ عالمی بینک کی اوسط غربت کی لکیر ہے جبکہ اور 21% یا 250 ملین سے زیادہ لوگ روزانہ $2 سے کم پر بھی زندہ ہیں۔

ہندوستان کو جو دوسرا چیلنج درپیش ہے وہ درمیانی عمر کی بڑھتی آبادی ہے (2023 میں 28.4 سال) جو 2050 تک 38.1 سال سے تجاوز کر جائے گی۔ اس طرح ہندوستان 1.64 بلین کی بدولت دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن جائے گا۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہندوستان کی 65% آبادی آج بھی دیہی علاقوں میں رہتی ہے، جہاں رابطہ کاری، تعلیم اورغربت کی بگڑتی صورتحال معاشرتیناہمواری کو مزید ہوا دے رہی ہے۔

قرضوں کے بحران سے نمٹنابھی مستقبل کی حکومتوں کے لیے ایک چیلنجہوگا۔ سماجی خدمات اور سرکاریانفراسٹرکچر کی کمی بھی ترقی اور نمو میں رکاوٹیں ہیں۔ حالیہ کووڈ 19 نے ہندوستان کی صحت اور سماجی انفراسٹرکچر میں بہت سی فالٹ لائنز کو بے نقاب کردیا ہے۔

ہندوستان کواپنی مینوفیکچرنگ کی مسابقتی صلاحیت کو بہتر بنانے اور اس کی پائیدار ترقی کے لیے اپنے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ ہندوستان نے بجلی کی پیداوار اور ترسیل کو بہتر بنایا ہے، لیکن نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے میں کمزوریاںدراصل کاروباری کارکردگی اور سرمایہ کاری میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔

ہندوستان کی بنیادی ڈھانچے میں اہم سرمایہ کاری (جی ڈی پی کا تقریباً 35%) ہونے کے باوجود، حکومتی اندازوں کے مطابق، اسے اگلی دہائی کے دوران بنیادی ڈھانچے میں مزید 1.5 ٹریلین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے لیکن اس سے بھی ممکنہ طور پر مستقبل میں ترقی کے بجائے صرف بنیادی ڈھانچے کا خسارہ ہی پورا ہوگا۔

S&P گلوبل کا اندازہ ہے کہ، “میک اِن انڈیا” نامی ہندوستانی پروگرام جس کا ویژن مینوفیکچرنگ صلاحیتوں کو بہتر بنانا اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے اعلیٰ ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے، تاہم اس میں بنیادی ڈھانچے کی کمزوری سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اگر حکومت بنیادی ڈھانچے کے خسارے کو ختم کرنے میں ناکام ہو جاتی ہے تو کارپوریٹ ترقی اور سرمایہ کاری میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے بارے میں کچھ ماہرین کا اندازہ ہے کہ نا اہلی کی وجہ سے اس پر جی ڈی پی کا تقریباً 4%-5% لاگت آئے گی۔ بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر عدم توجہ نہ صرف اقتصادی رکاوٹیں بڑھیں گی بلکہ طویل مدتی ترقی بھی سست ہو جائے گی۔

پالیسی میں بہتری، جسے مودی حکومت فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، انتخاب کے ساتھ ہی زوال کا شکار ہو سکتی ہے۔ اقتصادی ترقی میں تسلسل اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی ہندوستان میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے ضروری ہے۔ ایس اینڈ پی گلوبل نے نشاندہی کی ہے کہ کمزور انفراسٹرکچر ہندوستان کی اس ضمن میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ اگر اسے درست نہ کیا گیا تو یہ اس کی اقتصادی صلاحیت کی ناکامی ہو گی۔ اگر ایسا ہوا تو 2050 تک دنیا کی سب سے بڑی آبادی رکھنے والے ہندوستان کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جواس کے اقتصادی اور سیاسی اتحادیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی ایک حقیقت ہے جس کا جنوبی ایشیا سامنا کر رہا ہے۔ پاکستان نے 2022 میں تباہ کن سیلابوں کا سامنا کیا ہے۔ پاکستان میں 2022 کے سیلاب سے 800,000 ہیکٹر سے زیادہ کھیتی باڑی کا صفایا ہو چکا ہے  جس کے نتیجے میں ایک ایسے ملک ، جو پہلے ہی ریکارڈ 27 فیصد مہنگائی سے دوچار ہے، میں اجناس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح کی قدرتی آفات اور شدید موسم ہندوستان کے ماحولیاتی چیلنجوں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کو کم کرنے اور آب و ہوا سے متعلق ناقص عوامی پالیسی کے نتیجے میں ہندوستان میں حیاتیاتی تنوع اورماحولیاتی نظام کو شدید خطرات کا سامنا ہے۔ یہ اگلے 5-8 سالوں میں ہندوستان کے لیے ممکنہ قدرتی وسائل کے بحران کا باعث بن سکتا ہے۔ اس ضمن میں انتہائی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے کیونکہقدرتی وسائل کا بحران پڑوسی ممالک اور خطے میں صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب کرسکتا ہے۔

ہندوستان میں طویل معاشی جمود اس کی عوامی پالیسی آپشنز کو بھی محدود کر سکتا ہے، غربت کا بڑھتا ہوا چیلنج، ہندو اکثریت اور “دوسروں” بشمول مسلمانوں، عیسائیوں اور دلتوں کے درمیان سماجی تقسیم پیدا کر رہا ہے۔ اس طرح ایک خاموش اقلیتمعاشرے میں موجود سماجی و اقتصادی خلاسے جنم لے رہی ہے، جو انتہا پسند ہندو سوچ رکھنے والے دانشوروں اور پیشہور افراد کے درمیان مزید دراڑیں پیدا کر رہی ہے۔

اس تناظر میں مستقبل کی ہندوستانی حکومتوں کو معاشرتی، ماحولیاتی اور سلامتی کے خدشات کا سامنا ہے۔ سیکولر ہندوستانیوں کے نزدیکزعفرانی شدت پسندی کے باعث ترنگا اپنا رنگ کھوتا جا رہا ہے۔ ہندوستانی معاشرے کی اپنی پیچیدگیاں ہیں جوعالمی امن، خوشحالی اور توازن کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔

You might be interested in