‏جنگ عظیم

‏ہماری سوچ ہمارے عمل کا محرک ہوتی ہے- ہمارا عمل آہستہ آہستہ ہماری عادت بن جاتا ہے- عادت ہی دراصل انسان کا کردار ہوتی ہے- اور کردار زندگی ہے –
‏ہماری عادات ہماری شخصیت پر حکمرانی کرتی ہیں اور ہماری زندگی کارخ متعین کرتی ہیں – ہماری عادات ہمیں ہمارے کمفرٹ زون سے باھر نکل کر سوچنے ہی نہیں دیتیں اور ہم گھوم پھر کر واپس اسی جگہ پہنچ جاتے ہیں جہاں سے شروع کیا ہوتا ہے- میں نے سگریٹ نوشی کالج ہاسٹل میں شروع کی اور اس عادت کی بیس پچیس سال غلامی کی- سگریٹ نوش ، زندگی بھر خوشی اور غم کو سگریٹ کے کش میں تلاش کرتا ہے- کئی دفع رات کے پچھلے پہر سگریٹ کا خالی پیکٹ دیکھ کر غشی کے دورے پڑنے لگتے ہیں- حالانکہ آپ نے ابھی صرف سونا ہے- نشہ، چائے، لسی،فلم بینی، گپ شپ، سیاسی گفتگو اور اب سوشل میڈیا یہ سب عادات شخصیت کے گرد اس قدر مضبوط حصار بنا لیتی ہیں کہ ہمیں پتا ہی نہیں چلنے دیتیں کہ باہر دنیا میں کیا چل رھا ہے- موبائل سگنل بند ہو جائے یا بیٹری کا چارجر نہ مل رہا ہو توسانس رکتی سی محسوس ہوتی ہے- ہم کہنے کی حد تک تو آزاد ہی ہیں لیکن ہم اپنی عادات کے غلام بن کر جی رہے ہوتے ہیں- ہیں- ہمارا سوشل سرکل بھی ہماری اسی عادت کی پیداوار ہے – ہمارا خوامخواہ کا خوف، چغل خوری، کنجوسی اور شاہ خرچی، کھیل کود، کی عادات قبر تک ہمارا پیچھا کرتی ہیں – شوگر کے مریض ٹانگ کٹوا لیتے ہیں ، چینی نہیں چھوڑتے- کسی خاص گروہ سے نفرت یا کچھ مخصوص لوگوں سے محبت یا انس ہماری سوچ کی پیداوارہے- ہم اپنی کسی ایک عادت پر بھی قابو لیں تو ایسا لگتا ہے دنیا فتح کر لی ہے- ہر انسان اپنی سوچ اور عادات کا غلام ہے- ہماری شخصیت پر کسی دوسرے کی نہیں، ہماری سوچ کی حکمرانی ہے- ہماری عادات عمر بھر ہمیں اپنا غلام بنا کے رکھتی ہیں- شکستہ زندگی، معاشی ابتری ، اور کسمپرسی دراصل سستی ، جھوٹ اور کام چوری کا شاخسانہ ہے- جس دن آزادی کی جنگ لڑنے کو دل کرے اپنی سوچ اور عادات سے پنگا لے لیں – اگر آپ جنگ جیت گئے تو دنیا آپ کے قدموں کے نیچے ہو گی- صرف یہ ذہن میں رکھیں یہ دنیا کی سب سے مشکل اور خطرناک جنگ ہے- یہ جنگ عظیم ہے- اپنے آپ سے جنگ ہی اصل جنگ ہے اور اس میں فتح ہماری ساری پریشانیوں سے نجات اور خوشیوں کا نقطہ آغاز ہے-
‏⁦‪#Character‬⁩ ⁦‪#Habits‬⁩ ⁦‪#WarWithin‬⁩
‏۰-۰-۰-۰
‏عتیق

You might be interested in