جی سی آفس

(جنٹلمین کیڈٹ کا دفتر )
آپ حیران نہ ہوں پی ایم اے میں کیڈیس کے لئے باقاعدہ دفتر موجود ہے- تھوڑا ھٹ کے ہوتا ہے ، بلکہ ہمارے زمانے میں تو ہٹ کے اندر ہی تھا- تمام کیڈٹس کے لئے ایک ہی دفتر ہے- جونیئر، سینئر سب مل کراستعمال کرتے ہیں- دفتری اوقات بھی مختلف ہیں- آپ یہی سمجھ لیں کہ جسی آفس اوور ٹائم ی کے لئے ہوتا ہے تاکہ اگر دن میں تربیت میں کوئی کسر رہ گئی ہو تو وہ پوری کی جا سکے- اس دفتر میں کرسی میز نہیں ہوتا- کام کی انجام دہی کے لئے فرنٹ رول یا فراگ جمپ کا استعمال ہوتا ہے- یہ دفتر اتوار کو خصوصی طور پر کھولا جاتا ہے- جب ھم پہلے دن پی ایم اے میں فوجی ٹرک جو ایبٹ آباد بس سٹینڈ سے ہمیں لے کر آیا تھا، اس سے اتارے گئے تھے تو اسی دفتر میں ہمارا استقبال ہوا- اتنی عزت ملی کہ آج بھی یاد کر کے آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے ہیں- مجھے یاد ہے جی سی آفس میں ابتدائی کاغذی کاروائی کے بعد، تھوڑے سے وارم اپ فرنٹ رولز کے ذریعے ہمارے کپڑوں کو ملیا میٹ کرنے کے بعد ایک طرف کھڑا کر دیا گیا- ھمیں طارق کمپنی ملی تھی- تھوڑی ہی دیر میں تین ، چاراور جنٹلمین کیڈٹ آ ملے جنہیں خالد اور طارق کمپنیاں الاٹ ھوئی تھیں – یہ دونوں کمپنیاں ساتھ ساتھ ہیں – نئے کیڈٹوں کا گروپ تھوڑا بڑا ہوا تو ھمیں ایک سینئر کے حوالے کر دیا گیا کہ ہمیں کمروں تک چھوڑ آئے- سینئر کو سٹاف نے سارجنٹ صاب کہ کر مخاطب کیا-


سارجنٹ نے “دوڑے چل” کا کاشن دیا تو ہم سب ادھر ادھر دیکھنے لگے- یہ ہماری زندگی کا پہلا فوجی کاشن تھا جو ھمارے سر سے گزر گیا- بس پھر کیا تھا ، سارجنٹ کو غصہ آ گیا کہ ہمیں دوڑے چل کا بھی نہیں پتا- ہم نے منہ کھولنے کی کوشش کی تو ” شٹ اپ ” کہ کر سب کو فرنٹ رول ( سر کے بل رول کر کے آگے بڑھنا) کا حکم صادر فرمایا- فرنٹ رول تو ہم نے ابھی ابھی سیکھے تھے- سارجنٹ نے بھی دوڑے چل کی بجائے ہمیں فرنٹ رول سے منزل مقصود تک پہچانے کو بہتر جانا- ہمیں تو اگلے پروگرام کا بالکل علم نہیں تھا لیکن سارجنٹ کو مکمل علم تھا کہ پروگرام کو آگے کیسے بڑھانا ہے-
جی سی آفس سے نکل کر اگلا پڑاؤ باربر شاپ تھی- تین چار سو گز کا فاصلہ ہم نے کوئی ایک گھنٹے اور سو ڈیڑھ سو فرنٹ رول کے ذریعے سے طے – ہمارے ساتھ فرنٹ رول کرنے والے ایک باعلم کیڈٹ نے بتایا کہ ہم تقریبا اسی رفتار اور اسی موڈ آف ٹریولنگ سے اگلے دو سال سفر کریں گے- ہمیں اندازہ ہو چکا تھا کہ یہ بہت لمبا سفر ہے- آج چالیس سال بعد میں بہت اعتماد سے یہ کہ رہا ھوں کہ میرا اندازہ باکل غلط تھا- یہ سفر پلک جھپکنے میں گزر گیا-
خیر ہم باربر شاپ پہنچ گئے-کوئی درجن بھر باربر ،جیسے بھیڑ کی اون اتارتے ہیں، اسی طرح کیڈٹ کے سر کے بالوں کو صاف کر کے کشتوں کے پشتے لگاتے جا رھے تھے- ہم بھی لائن میں لگ گئے- باری آئی ،کرسی پر بیٹھے اور باربر نے چند منٹ لگائے اور بولا، “لیں صاب”- ہم نے نظر اٹھا کے سامنے دیکھا تو نظر نہ آئے- باربر کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تو بولا ” جی سر، یہ آپ ہی ھیں”- بہت غور سے دیکھنے پر باربر کی بات پر یقین آیا- یہ ہمارا میٹا فزکس کا پہلا سوال تھا کہ ” میں کدھر ہوں” ، جس کا جواب ڈھونڈنے میں باربر نے ہماری مدد فرمائی- پہلی دفعہ اندازہ ھوا کہ معمولی سے معمولی چیز بھی آپ کی شناخت کے لئے کیا معنی رکھتی ہے- سر کے بالوں اور مونچھوں کی انسانی شکل و صورت میں کیا اھمیت ھے، یہ اسی دن علم ہوتا- اپنے اوپر اتنا ترس کبھی نہیں آیا، جتنا پہلی دفع فوجی کٹ ہونے کے بعد آیئنے کے سامنے ، باربر کی زیر لب مسکراہٹ دیکھ کے آیا- پوری زندگی جن بالوں کو سنوارتے رھے، ان کو ناجائز تجاوزات سمجھ کر ایک جھٹکے میں اڑا دیا گیا- ان بڑے بڑے بالوں اور بیل باٹم پینٹوں کے ساتھ کالج کے زمانے میں ہم نے بہت تصویریں بنوائیں تھیں ، جنہیں ہم نے آج تک البم میں سنبھال رکھا ہے-
خیر واپس جی آفس کی طرف چلتے ہیں-
۳۲ سالہ کمیشنڈ سروس میں جو دفتر ہماری یاداشت سے محو نہ ہو سکا وہ “جی سی آفس” ہی تھا- آپ کسی بھی ریٹائرڈ یا حاظر سروس آفیسر سے پوچھ لیں اسے یہ دفتر روز اول کی طرح یاد ہو گا-
جینٹلمیں کیڈٹ کے آفس پہنچتے ہی ، سٹاف اور سینئرز آپ پر ٹوٹ پڑتے ہیں ( محاورتا) –
سارا کام آدھے گھنٹے میں سمیٹنا ھوتا ھے- سٹاف اور سینئرز آپ کی ہر طرح سے مدد کرتے ہیں کہ اس تمام عرصے میں آپ سکون کا سانس نہ لینے پائیں- جی سی آفس آپ خود سے نہیں جا سکتے- یہ دن میں کی گئی غلطی کا نتیجہ ہے- دن کے اوقات میں کوئی ڈرل سٹاف آپ کی کوئی قوائد کی خلاف حرکت نوٹ کر کے آپ کا نمبر جی سی آفس روانہ کرے گا- تین بجے ایک لسٹ آؤٹ ھوتی ھے جو کہ ہر کمپنی میں نوٹس بورڈ پر لگا دی جاتی ھے کہ آپ کے نام تین ERC کی لاٹری نکلی ہے – ERC کا مطلب ہے ایکسٹرا رول کال- جی آفس میں پورے کمبٹ ڈریس میں اور چھوٹا پیک ( پٹھو) پہن کے جانا ہوتا ہے – چھوٹے پیک میں 26 آرٹیکل پورے کر کے لے جانے ھوتے ہیں- جی آفس جانے سے پہلے ان آرٹیکلز کو پورا کرنا سب سے بڑا امتحان ہے- کافی دوڑ دھوپ کرنی پڑتی ہے-چھبیس آرٹیکلز میں، سوئی ، دھاگہ، فوڈ ٹن، گراؤنڈ شیٹ ، فلیش لائٹ، فرسٹ ایڈ وغیرہ وغیرہ شامل ہوتے ہیں- اور رول کال رات عین اس وقت شروع ھوتی ھے جب آپ کے ساتھی کمروں میں آرام کر رھے ھوتے ہیں یا گپیں لگا رھے ہوتے ہیں- اس سارے عمل میں یہی نقطہ زیادہ تکلیف دے ھوتا ھے کہ آپ پھنسے ھوئے ہیں اور باقی پلاٹون عیاشی کر رھی ھے-
پی ایم اے کے اندر ہر کام میں کیڈٹ کی تربیت کا پہلو ہوتا اور یہہں سے ایک منظم زندگی کا آغاز ہوتا ہے-
ایکسٹرا رول کال (ERC) ڈرل سٹاف کے دائرہ اختیا میں ہے- ERC کی ایک کزن بھی ھے جسے Restriction کہتے ہیں- یہ پلاٹون کمانڈر یا ایجو ٹنٹ ( آفیسرز) کا اختیار ہے- ایکسٹرا رول کال ، یونیفارم کے ٹوٹے بٹن ، ڈھیلے ڈھالے مارچ پر انعام میں ملتی تو restriction بھی اسی طرح کی چھوٹی چھوٹی معصوم غلطیوں پر ملتی ہے ، جیسا کہ بیلٹ ڈھیلا باندھے ہونا، تسموں میں کہیں سلوٹ ھو یا یونیفارم پر کوئی دھبہ نظر آ جائے- restriction کے فرض کی ادائیگی بھی جی آفس میں ہوتی ھے-


ریسٹریکشن ( restrictions)صرف اتوار والے دن کے لئے ہوتی ہے- آپ ویک اینڈ پر پی ایم اے سے باھر نہیں جا سکتے اور اتوار ،پورا دن کمبیٹ ڈریس میں کمرے میں موجود رھنا ہے اور جب بھی بگل بجے آپ نے “بغلیں بجانا” بند کر کے اگلے چند منٹوں میں بگل بجنے والی جگہ پر پہنچنا ھوتا ھے- بگل جی آفس کے علاوہ کہیں بھی بج سکتا ہے – بگل کہاں بجا ھے یہ آپ نے ڈھونڈنا ہے- بگلر جگہ تبدیل کرتا رھتا ہے لیکن مناسب فاصلے کے اندر ہی رھتا ھے- کیڈٹ اس کا حل یہ نکالتے ہیں کہ جب ایک بگل کی رول کار ختم ہو تو کمرے میں نہیں جاتے ادھر ہی قریب کہیں ٹک جاتے ہیں اور بگلر پر نظر رکھتے ہیں – یہ لکن میٹی پورا دن جاری رھتی ھے – اگر restriction ایک سے زیادہ ہیں تو باقی اگلے ویک اینڈ پر پوری کرنی ھوتی ہیں-
ایکسٹرا ڈرل بھی اسی طرح کی ایک چڑیا ھے- یہ ڈرل کی ٹیوشن سمجھ لیں – آپ کے لیفٹ رائٹ کو ٹھیک کر کے ببل کو سنٹر میں کرتے ہیں- ڈرل کے لئے ایک علیحدہ میدان جنگ ہے ، جسے ڈرل اسکوئیر کہتے ہیں- کم از کم دو مربع کلومیٹر پر پھیلے ڈرل اسکوئر کو یہ کالم تو نہیں سمیٹ سکتا- ڈرل وہ واحد تربیتی آئٹم ہے جس پر پی ایم اے سٹاف آپ کی کارکردگی سے دو سال تک مطمئن نہیں ہوتا-
یہ ہلکا سا تعارف تھا ہمارے پہلے دفتر کا جو ہمیں پی ایم اے پہنچتے ہی مل گیا-
۰-۰-۰-
برگیڈیئر عتیق الرحمان (ر)

You might be interested in