حکومت عدالت کا بائیکاٹ نہیں کر سکتی،چیف جسٹس پاکستان 

پنجاب اور خیبرپختونخوا التوا کیس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ اٹارنی جنرل صاحب آپ کو کیا ہدایت ملی ہیں،حکومت عدالت کا بائیکاٹ نہیں کر سکتی۔ سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا التوا کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بنچ میں شامل تھے،سیکرٹری دفاع، سیکرٹری الیکشن کمیشن، ڈپٹی سیکرٹری داخلہ عدالت میں پیش ہوئے ۔ دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ اٹارنی جنرل صاحب آپ کو کیا ہدایت ملی ہیں،حکومت عدالت کا بائیکاٹ نہیں کر سکتی۔ اٹارنی جنرل نے کہاکہ حکومت بائیکاٹ نہیں کرسکتی،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ سنجیدہ اٹارنی جنرل سے ایسی ہی توقع تھی، اٹارنی جنرل نے کہاکہ حکومت آئین کے مطابق چلتی ہے۔اٹارنی جنرل پاکستان نے کہاکہ درخواست میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قراردینے کی استدعا ہے، صدر کو کے پی میں تاریخ دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے، درخواست کی بنیاد یکم مارچ کا عدالتی فیصلہ ہے، فیصلے میں عدالت نے پنجاب کیلئے صدر، کے پی کیلئے گورنر کو تاریخ دینے کا کہا تھا،گورنر کے پی نے درخواستیں دائر ہونے تک کوئی تاریخ نہیں دی تھی۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ سوال اٹھایا تھا الیکشن کمیشن 8 اکتوبر کی تاریخ کیسے دے سکتا ہے؟قانون کسی کو الیکشن ملتوی کرنے کا اختیار نہیں دیتا،عدالت ہی الیکشن کی تاریخ آگے بڑھا سکتی ہے ،1988 میں بھی عدالت کے حکم پر انتخابات آگے بڑھائے گئے تھے، عدالت زمینی حقائق کا جائزہ لے کر حکم جاری کرتی ہے،جس حکم نامے کا ذکر کررہے ہیں اس پر عمل ہو چکا ہے۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اصل معاملہ الیکشن کمیشن کے حکم نامے کا ہے،عدالتی حکم الیکشن کمیشن پر لازم تھا، الیکشن کمیشن کا حکم برقرار رہا تو باقی استدعائیں ختم ہو جائیں گی۔

#آئین_پرڈٹ_گیا_چیف_جسٹس

You might be interested in