دہشت گردی اور اب پراپیگنڈا- ہدف پوری قوم


تحریر: ڈاکٹر عتیق الرحمان
اکیسویں صدی میں جنگوں کے اھداف بہت وسیع ہو چکے ہیں – اب جنگوں میں دشمن کا ھدف صرف فوجی ٹارگٹ نہیں بلکہ دوسری ریاست پر قابو اور ان کے وسائل اور عوام کے ذہنوں پر قبضہ کرنا ہے – کیونکہ دشمن کا ھدف وسیع ہو چکا ہے لہذا اس کے مقابلے کے لئے بھی ریاستوں کو تمام وسائل بروئے کار لانے ہونگے اور شہری اپنے ملک کا سب سے بڑا ہتھیار ہوتے ہیں- قومی یکجہتی ہے جواب دشمن کے حملے کا – ایراق، لیبیا، شام، افغانستان، یوکرائن، تائیوان، ساؤتھ چائنہ سی ، میانمار، افغانستان یہ پچھلی ایک دھائی کی مثالیں ہیں –
دھشت گرد ی کی جاری جنگ میں ہم نے دیکھا دھشت گرد کیسے خودکش جیکٹ پہن کر عام آ دمی کے حلیے میں سیکورٹی فورسز کی چوکیوں ، پولیس اسٹشن ،بازاروں ، سکولوں ، مذھبی مقامات پر حملے کر کےچلتے پھرتے انسانوں کو گوشت کے لوتھڑو میں تبدیل کر دیتے تھے- اب ذھنوں کو قابو کرنے کی جنگ میں بھی سب سے بڑا ھدف عام شہری ہیں –
کلاس وٹز ( Clausewitz) کے مطابق جنگوں میں چھوٹی چھوٹی چیزیں جنہیں ہم قابل غور نہیں سمجھتے وہ بعد میں اکثر ناقابل تسخیر پہاڑ بن جاتے ہیں – ذہنوں کو قابو کرنے کی جنگ شروع ہے اور ہم پراپیگنڈا کو اہمیت نہیں دے رھے جو کہ انتہائی خطرناک ہے-
ہم نے اپنی مشرقی سرحد پر اپنے سے چھ گنا بڑی فوجی طاقت کو چھہتر سالوں سے لگام ڈال رکھی ہے اور مغربی سرحد پر اپنا لہو سینچ کرنہ صرف سرحد سیل کر دی ہے بلکہ دہشت گردی کے ناسور کا بھی قلعہ قمع کر رہے ہیں- بائیس سال تک افغانستان میں دھشت گردوں سے بر سر پیکار امریکہ اب واپس جا چکا ہے-
دنیا کی تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ ۲۷ ھزار مربع کلومیٹر پر پھیلے رقبہ میں جاری شورش کو نہ صرف قابو کیا بلکہ اس علاقے کو نئے سرے سے آباد کر کے ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہو- پاک فوج نے قبائلی علاقوں میں یہ کر دکھایا ہے-
ہر جنگ کوئی نیا مہلک ہتھیار،اور نئی تکنیک متعارف کرواتی ہے جو کہ جنگ کا پانسہ پلٹتی ہے-
ورلڈ وار ٹو میں ۱۹۴۰ میں فرانس کی جنگ میں جرمنی نے بہتر حکمت عملی کے علاوہ تیز رفتاری (Blitzkreig)اور اعلی کمیو نیکشن کے ذریعے آرڈین رینجز جو کہ ناقابل تسخیر سمجھی جاتی تھیں اس کو عبور کر کے فتح حاصل کی-
دھشت گردی کی جنگ میں آئی ای ڈی(خودکش جیکٹ یا بارودی سرنگ ) نیا ہتھیار تھا جس نے بہت تباھی مچائی- ان دھشت گردوں کی تربیت افغانستان میں ہوتی تھی اور بھارت اس کی پشت پناھی کرتا تھا- ۲۰۰۵ میں جب یہ جنگ زور پکڑ رہی تھی اور انٹر نٹ عام ہونے لگا تو بھارت نے انڈین کرونیکلز کا آغاز کر دیا – یہ پاکستان کو پوری دنیا میں بدنام کرنے کا منصوبہ تھا اور ساتھ ہی ساتھ پاکستانی قوم کو تقسیم کرنے اور ذہنوں کو قابو کرنے کی جنگ کا آغاز بھی-
انسانی ذہنوں پر قابو پانے کی ھزاروں تکنیک متعارف ہوئیں جو ابھی تک جاری ہیں-
اب جنگی نوعیت مکمل طور پر تبدیل ھوتی نظر آ رھی ہے- عالمی سیاست جیو پالیٹیکس سے جیو اکنامکس کی طرف تیزی بڑھ رہی ہے- ذھنوں کو قابو کرنے کی جنگ نہ صرف ملکوں بلکہ کاروبار اور برانڈز کی دنیا میں بھی جاری ہے- جس کے اثرات براہ راست معاشروں میں ہیجان اور افراتفری کی شکل میں نظر آرھے ہیں – لوگ سیاسی وابستگیوں کو ملکی دفاع پر ترجیح دے رھے ہیں- دشمنوں کی بچھائی ہوئی چال اب رنگ دکھا رہی ہے جس نے ریاست کے وجود اور سلامتی کو خطرات لاحق کر دئے ہیں- دھشت گردوں کی پشت پر بھی ہمارا دشمن تھا اور اب ذہنوں کو پراگندہ کرنے کی جنگ میں مشغول شر پسندوں کی پشت پر بھی ہمارا دشمن ہے- یہی وہ نقطہ ہے جسے جلدی سے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ذہنوں کو قابو کرنے کی جنگ میں شہریوں کا انفرادی کردار بہت اہم ہے- افواہ، جھوٹ، سازش اور سچ آپس میں گڈ مڈ ہو چکے ہیں- کسی بھی خبر اور الزام تراشی پر فوری یقین کرنے سے قبل اپنے حلقہ احباب سے باھر نکل کر تصدیق کریں- اسی میں ہماری بقاہے- قومی یکجہتی تمام مسائل کا حل ہے

You might be interested in