زندگی آپ کی تو فیصلہ بھی آپ کا


تحریر :عتیق الرحمان
بالاخر سوشل اینیمل کو گپ شپ کے لئے سوشل میڈیا میسر آ ہی گیا- لیکن انٹر نیٹ معاشروں کی ترقی کو آسمان کی بلندیوں پر بھی لے گیا ہے- ہم نئی ٹیکنالوجی کو اپنی ترجیح کے لحاظ سے استعمال کرتے ہیں- پوری دنیا میں کنٹینر سامان کی ترسیل کے لئے استعمال ہوتے ہیں ہم یہاں دھرنے اور لانگ مارچ روکنے کے لئے استعمال کرتے ہیں- دنیا نے فریج پانی ٹھنڈا کرنے کے لئے استعمال کی ہم نے کپڑوں والی الماری کے لئے بھی استعمال کی- دنیا میں کوئلہ ریل انجن کے ایندھن کے لئے استعمال ہوتا رھا ھمارے ہاں مائع لگی شلوار قمیض کی استری کو گرم کرنے کے لئے استعمال ہوتا رھا- اگر ہم شلوار قمیص کو مائع لگانے والا پیسہ ملک کا قرضہ اتارنے کی طرف موڑ دیں تو ہمارے وارے نیارے ہو سکتے ہیں-
انسان سماجی جانور ہے جسے ایک دوسرے سے بات چیت کرنا ہوتی ہے، ظاہر ہے کبھی کبھار چغل خوری کرنے کو بھی دل کرتا ہے، موبائل دونوں کام کرتا ہے- پہلے صرف اپنے گھر کے مسائل ہوتے تھے- اب چیچہ وطنی میں بیٹھی خالہ کو کراچی میں اپنی بھانجی کے مسائل حل کرنے کی بھی پریشانی ہے- انسان خود غرض بھی ہے اس لئے خود غرضی اور خود نمائی کی پرورش کے لئے کوئی آلہ چاہیے تھا تو سیلفی کا رواج عام ہو گیا-انسان حاسد بھی ہے اس لئے دوسرے اور خاص طور پر شریکوں کی ترقی برداشت نہیں کر پاتا لہذا شریکوں کو نیچا دکھانے کا کوئی علاج چاہیے تھا تو ان کے خلاف پوسٹیں لگانا شروع کر دیں ، سماجی جانور کو ہر وقت کوئی نہ کوئی انجانا خوف لاحق رھتا ہے، اس لئے سازشیں کرنے کیلئے کچھ درکار تھا- انس اور محبت بھی اس کی فطرت ہے ،اسکے لئے بھی کوئی جوگاٹ چاہیے تھی-
دوسری طرف تعلیم، تجارت، صحت، سفر، سیاست، گوورننس، معیشت ، سفارتکاری میں بہتری کے لئے تیزی کے ساتھ ساتھ کام کرنے میں سہولیات چاہیں تھیں- انٹر نیٹ نے یہ سب کچھ ممکن کر بنایا-
موبائل اور سوشل میڈیا نے سماجی جانور کی بھی تمام ضروریات کو اب ون ونڈو اپریشن کر دیا ہے-
کبھی کسی نے سوچا تھا کہ منٹوں میں سکین مشین انسانی جسم کے کسی بھی اندرونی حصے میں کسی بیرونی یا زائد عنصر کا پتا لگا لے گی- ھزاروں میل دور بیٹھ کر ہم آپس میں ویڈیو لنک سے لائیو بات چیت کر سکیں گے، گھر بیٹھے دفتر کا کام کر سکیں گے، اپنی من پسند چیز کا انتخاب کر کے اسے آن لائن منگوا سکیں گے- ٹکٹ گھر بیٹھے بک ہوں گے اور بینکنگ موبائل کے ذریعے ہو گی- زندگی اتنی آسان ہو جائے گی اس کا انسان نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا-
ساتھ ہی ساتھ انسان نے کبھی سوچا نہ تھا کہ وہ وقت بھی آئے گا جب ہم اپنی ہوس، دشمنیاں ، سیاسی مقاصد، تمام شیطانی حربے گھر بیٹھے ، سب سے چھپ کر، آرادم دہ بستر پر بغیر کسی تکلیف کے سر انجام دیں سکیں گے-
ہم اسی دور میں زندہ ہیں- ہمارے ہاتھ میں موبائل نہیں پوری دنیا ہے- اس سے ہم دنیا کو فتح کر سکتے ہیں – لیکن ہم نے مناسب سمجھا کہ ہم دشمنیاں نبھائیں- مغرب نے پہلے بھی ترقی کے راستے اپنائے اور دنیا پر راج کیا اور ہم پہلے بھی تنگ نظری کا شکار ہوئے اور اب بھی اسے ڈگر پر چل رھے ہیں-
مجھے یاد ہے کالج میں میرا ایک کلاس فیلو تھا نام خود نہیں لکھ رھا- آزاد منش، کتابوں سے نفرت کی حد تک کنارہ کشں – فائنل امتحان شروع ہوئے تو پہلے پرچے میں ہی لیٹ پہنچا – آدھا گھنٹہ لیٹ آیا، ایگزامینر اچھا تھا ، کمرہ امتحان میں بیٹھنے دیا اور پوچھا، لیٹ کیوں ہوئے- سر، میں غلطی سے دوسرے امتحانی مرکز پہنچ گیا تھا- بڑی مشکل سے پہنچا ھوں- ایگزامینر نے پرچہ ہاتھ میں تھمایا اور بولا کہ چلو وقت ضائع مت کرو، شروع کرو- دو ، تین منٹ گزرے گزرے ہوں گے کہ ہال میں اونچی اور گھبرائی ہوئی آواز گونجی، ایکسکیوز می سر، آج تو اردو کا پرچہ تھا- یہ تو انگلش کا پرچہ آپ نے مجھے غلطی سے دے دیا- پورا ہال قہقہوں سے گونج اٹھا- یہ وہی میرا دوست تھا جو کمرہ امتحان میں لیٹ پہنچا تھا- پچھلے دنوں برسوں بعد ملاقات ہوئی- حال احوال پوچھنے کے بعد میں نے پوچھا کیا کر رھے ہو آج کل، بڑا ہلکے سے جواب دیا کہ سوشل میڈیا – میں نے پھر استفسار کیا کہ کام کیا کرتے ہو، بولا بتایا تو ہے سوشل میڈیا-
دنیا انٹر نیٹ کو ترقی کا زینہ سمجھ رہی ہے اور ہم چغل خوری اور سیاسی ایجنڈے کے حصول کا ذریعہ

You might be interested in