طرز حکمرانی


موجودہ دور میں حکمرانی آسان بھی ہے اور مشکل بھی- ڈیٹا اور ٹولز( tools) نے آسانی تو پیدا کی ہے لیکن عوام کی سمجھ بوجھ میں بھی بہت اضافہ کر دیا ہے- عوام کا باشعور ہو جانا حکمران طبقے کے لئے اچھا شگن نہی ہے- انہیں ٹولز کا استعمال کر کے حکمران طبقہ عوام کی آنکھوں میں دھول بھی جونک رہا ہے جسے پراپیگنڈا کہتے ہیں- گئے وقتوں میں حکومتیں صرف میڈیا سے ڈرتی تھیں ، اب تو ہر شہری ٹی وی ہاتھ میں لئےگھوم رہا ہے- کہیں سے بھی لائیو جا سکتا ہے-
مضبوط اور خوشحال ریاست کے لئے حکومتی وسائل ، طرز حکمرانی اورعوامی مسائل میں مطابقت ہونا بہت ضروری ہے-
ہمارے پاس وسائل کی شدید کمی ہے، ہمارا طرز حکمرانی بالکل بھی موثر نہیں ، ظاہر ہے عوامی مسائل کے حل ہونے کا تو پھر سوال ہی پیدا نہیں ہوتا- اور سونے پہ سوہاگہ کہ ہمارے شہری، اپنے حکمرانوں کی طرح ذمہ دار نہیں –
کسی بھی مسئلے کا حل نکالا جا سکتا ہے بشرطیکہ حل کرنے کی چاہ ہو- مسائل کو حل کرنے کی ترجیحات کا علم ہونا ضروری ہے-مسائل پیدا تو ایک ایک کر کے ہوتے ہیں لیکن پھر اکٹھے ہو کر پہاڑ بن جاتے ہیں اس لئے مسائل کی گتھی کو سلجھانے کے لئے پرت در پرت اتارنا ہوتا ہے-
کوئی بھی مسئلہ، انفرادی اور اجتماعی غفلت اور لاپرواہی کی پیداوار ہوتا ہے-
غفلت اور لاپرواہی ایک عادت ہے، لہذا یہ لازمی ٹھہرا کہ موجودہ اور آئندہ آنے والے مسائل کو حل کر نے کے لئے پہلے غفلت اور لاپرواہی کی عادت پر قابو پانا ہو گا- اور اس موذی مرض کا علاج صرف قانون کی عمل داری ہے-
ذمہ دار شہری ہی ریاست کے تمام مسائل کو حل کرنے کی کنجی ہے- ریاست سے شہری کا رشتہ مضبوط ہو گا تو خلوص نیت سے کام ہو گا- قومی اتحاد ریاست کے لئے دوام ہے لیکن سیاسی اکابریں کے لئے موت-
ریاست کے وسائل صرف ایمانداری اور قانون کی عمل داری سے بڑھائےجا سکتے ہیں- مہنگائی کی اصل وجہ مارکیٹ اکانومی میں مافیاز کی ملی بھگت ہے، ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو سرکاری اھلکاروں کی اشیر باد حاصل ہوتی ہے-
دنیا میں غربت کم ہو رہی ہے، ہمارے ہاں تیزی سے بڑھ رہی ھے-ورلڈ بینک کے متعین کردہ معیار کے مطابق اس وقت ہمارے ہاں کم از کم پنتس فیصد افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں – پاکستان کے مسئلے سیاسی ضرور ہیں لیکن شعوری بھی ہیں –
کبھی کہتے ہیں تعلیم کا بجٹ کم ہے، کبھی کرپشن کو مسئلہ بنا دیتے ہیں- نظام تعلیم تبدیل کرنے کی ضد بھی خوب ہے- جو نظام موجود ہے اس سے صرف دس فیصد لوگ استفادہ کر رھے ہیں اور ضد ہے کہ نیا نظام تعلیم لایا جائے- تمام پبلک اور پرائیویٹ یونیورسٹیاں autonomous bodies ہیں- لیکن انتظامی معاملات کے لئے حکومت سے مدد چاہیے- مسائل کی حل کرنے کی ترجیحات کا احاطہ کرنا بڑا ضروری –
عادات ، متعدی بیماری کی طرح ہوتی ہیں- خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے- عوام اگر باشعور ہو گی تو حکمرانوں میں گڑ بڑ کرنے کی ہمت نہیں ہو گی- جس طرح اولاد فرمانبردار ، پڑھی لکھی اور ہنر مند ہو تو خاندان خوش حال ہوتا ہے بالکل اسی طرح اگر شہری ذمہ دار اور ہنر مند ہوں تو ریاست مضبوط ہوتی ہے-
ذمہ دار شہریوں کی پرورش کوئی لمبے عرصے والا منصوبہ نہیں ، چند دنوں اور ہفتوں کا کام ہے، صرف قانون کی عملداری ہر حال میں ممکن بنانی ہے- ڈنڈا پیر لمحوں میں تمام گند صاف کر دیں گے-
ذاتی فائدے اوردیگر سہولیات کا ہم مکمل حساب رکھتے ہیں لیکن سرکاری وسائل کو ہم بے دردی سے استعمال کرتے ہیں – ہمیں ریاست کے لئے اپنے دل میں محبت رکھنے والے شہری چاہیں – اگر ہم اس عادت کی پوری قوم میں پرورش کر پائے تو ہمارا بیڑا پار ہو جائے گا-
ذمہ دار شہری ہی ریاست کے تمام مسائل کو حل کرنے کی کنجی ہے- سوچنے والے ذہنوں کی حکومت میں ضرورت ہے- پک اینڈ چوز ( pick and choose) سے وسائل نہیں بڑھتے- صرف نفرت بڑھتی ہے- وسائل بڑھانے کے لئے انصاف کی عملداری ضروری ہے وگرنہ امیر مزید امیر ہوتا جائے اور غریب مزید غریب – وسائل بڑھ گئے ، شہری ذمہ دار ہو گئے تو مسائل حل کرنے کی ترجیح بھی ٹھیک ہو جائے گی- آؤ مل کر چلیں- نئی منزل کی طرف-
-۰-۰-۰-۰-۰-۰
عتیق الرحمان

Visited 1 times, 1 visit(s) today

You might be interested in