طنز ( Satire)


تحریر :عتیق الرحمان
کل رات ہنری کسنجر نے دنیا میں کچھ زندہ بچ جانے والے عا لمی سیاست کے ماہرین جس میں بیری بوزان، جان میر شائمر، جارج فرائیڈ مین ، امرتا سین، مرکلا اینجل، اور کچھ دوسرے احباب شامل تھے ان کو نیویارک میں اپنے فلیٹ پر کھانے کی دعوت دی – کیونکہ شرکائے دعوت بزرگ تھے تو تواضع صرف ھلکے پھلکے ڈرنکس سے کی گئی- شرکاء کی بھوک عمر کے تناسب سے تقریبا ختم ہو چکی ہے جیسا کہ سب کے ساتھ ہوتا ہے- بھوک اور ہوس صرف جوانی کی دین ہے-اپنے زمانے کے ماھرین کا متفہ فیصلہ تھا کہ ہماری سوچ اس دنیا کا جس میں ہم آجکل زندہ ہیں اس کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے-ہم سیدھے سادھے حالات کا تجزیہ کر کے آگے چلنے کے اہداف طے کرتے تھے-روس کے مقابلے میں اپنے بلاک کو مضبوط کرنا اولین مقصد ہوتا تھا تاکہ یورپ محفوظ رھے- بڑا ہوا تو ریاستوں کو آپس میں لڑوانے کے لئے چھوٹی موٹی شرارتیں کر لیں –

  • [ ] موجودہ حالات کا ہماری سوچ سے دور کا بھی واسطہ نہیں – اب تو ایلن مسک، جیف بووز، انبانی، بل گیٹس دنیا کے مالک ہیں – انہوں نے دنیا چلانے کے لئے آگے ٹرمپ ، مودی، جانسنز، قسم کے بندے رکھے ہوئے ہیں- اب ریاستوں کو یہ کرائے کے حکمران چلانے کا ڈرامہ کرتے ہیں- اب تو جوا کھیلنے کے لئے کیسینوز جانے کی ضرورت نہیں یہ کام آپ سپورٹس گراؤنڈ سے بھی انجام دے سکتے ہیں- فراڈ ، ڈاکے اور منافع میں فرق مٹ چکا ہے- ڈالر تو میامی بیچ پر دھوپ سینکتی گوریوں کی طرح خطرے میں ہے- چین اور روس کسی وقت بھی بیچ پر پہنچا چاھتے ہیں-امریکہ کا ایراق اور افغانستان پر حملہ، روس کا یوکرین پر حملہ، بھارت کا کشمیر کو ھڑپ کرنا، دو دو سو بلین ڈالر کی کارپوریشنز ، کرونا جیسی بیماریاں، موسمی شدت ، الیکشنوں میں ان دیکھی دھاندلی، سائبر اٹیک، ہماری سفارتکاری اور خیالات ان خرافات کا احاطہ نہیں کر سکتے- ورلڈ وار ون اور ٹو میں تو لوگ جنگی ہتھیاروں کا نشانہ بنے تھے ، یہ جو اب سات ارب آبادی ہے یہ انٹر نیٹ کی بھینٹ چڑھ جائے گی- صرف فائبر اپٹک کیبل کو چالو رکھیں ، یہ دنیا کسی وقت بھی چل جائے گی- اب سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ہر طرف مساوات ہے- سب خطرات میں گرے ہوئے ہیں اور کوئی بھی بچنے کی کوشش نہیں کر رھا- کرسٹل کا یہی فائدہ ہے کہ یہ اندھا کر کے مارتی ہے-

You might be interested in