عالمی حالات – ایک جائزہ

عتیق الرحمان

۲۱ ویں صدی میں تین چیزیں بیک وقت رونما ھو رھی ہیں اور یہ محظ اتفاق ہے- انفارمیشن کی ھیئت تبدیل ہو گئی ھے- اور معاشی طاقت مغرب سے مشرق آ رھی ہے اور امریکہ کے ساتھ ساتھ چین بھی سپر پاور بنے جا رھا ہے-
ڈیٹا-انفارمیشن-نالج- وزڈم ( wisdom) – اس تربیب سے علم انسانی شعور کا حصہ بنتا ہے – پہلے ڈیٹا معمولی سا ہوتا تھا اور اُسی حساب سے انفارمیشن اور باقی سلسلہ تھا- ڈیٹا اب اربوں bitsھے- انفارمیشن پر اتنی چیزین اثر انداز ہو رھی ہیں کہ انسان کا علم اس سے بری طرح متاثر ھوا ہے جس کی وجہ سے چیزوں کو پرکھنے میں شدید غلطی ھو رہی ہے- فرد کی سطح سے لیکر ریاست اور عالمی سطح پر- جن ملکوں اور اداروں کا ڈیٹا پر کنٹرول ھے ان کی دنیا پر حکمرانی ھے دنیا – ملٹری پاور کی جگہ انفارمیشن لے چکی ھے
چار صدیاں معاشی طاقت یورپ میں رھی اب ایشا میں آ رھی ھے لیکن ایشیا ، یورپ سے مختلف ھے- ایشیا نہ متحد نہ یورپ کی طرح چھوٹا- بہت وسیع اور حصوں پرزوں میں بٹا ھو- نہ ہی یورپی یونین اور نہ نیٹو- دنیا کی تین بڑی معیشتیں ، چین، انڈیا، جاپان ایشیا میں ہیں اور تینوں میں اتحاد نہیں- بھارت بڑی معیشت ھونے کے باوجود دوسرا بڑا سلحے کا خریدار، اندرونی طور پر کمزور ملک ھے- بھارت امریکہ کے زیر اثر بھی نہیں رھنا چاھتا لیکن امریکہ کا سٹریٹجک پارٹنر بھی رھنا چاھتا ہے- ملک میں ھندو انتہا پسندوں کو بڑھکا کر ووٹ لینا چاھتا ھے اور ساتھ سیکولر انڈیا کا ڈھنڈورا پیٹنا چاھتا ہے-پراپیگنڈااس کی خارجہ پالیسی کا حصہ ھے- اور بھارت کی اندرونی اور خارجی معاملات کے یہ تضادات دنیا کے لئے خطرہ ہیں -یہ چین اور جاپان سے بالکل مختلف ھے- جاپان اور چین کیآپس میں ھم آھنگی نہیں – چین کی تائیوان، ویت نام سے بھی گڑ بڑ ھے-

سب سے اھم Thucydides trap- جب ایک ابھرتی طاقت ، موجودہ طاقت کے لئے چیلنج بن کر ابھرتی ہے تو عموما جنگ ھوتی ھے- تاریخ میں سولہ دفع یہ موقع آیا ، صرف چار دفع جنگ نہیں ھوئی – دنیا میں اس وقت وھی کشمکش چل رھی ہے-
اوپر والے حالات ہمارے جیسے ملکوں میں سیاست، معیشیت، سماجی اور انفرادی رویوں پر برے طریقے سے اثر انداز ھو رہے- ریاست کو استحکام دینے کے لہے ان تین عناصر پر یکمشت توجہ دینے کی ضرورت ہیں –

Visited 3 times, 1 visit(s) today

You might be interested in