عالمی سیاست اور پاکستان

‎ریاست کے وجود میں آتے ہی طاقت حصول کے لئے جدوجہد شروع ھو گئ تھی  کہ حکمرانی کون کرے گا، کس کے پاس کتنی طاقت ھو گی اور وہ کیسے استعمال کرے گا۔ اصول تو وضع ھو گئے اور حکمرانی کے طریقے بھی وجود میں آگئے لیکن طاقت کے استعمال میں توازن پیدا نہ ھو سکا۔ طاقت کا حصول انسان کی جبلت  میں ازل سے شامل ھے۔ انسان اپنی حفاظت اور پیٹ پوجا کے بعد سب سے پہلا کام اپنی طاقت بڑھانے کے لئےسعی  کرتا ھے۔ اور یھیں سے پھر فسادات کاآغاز ھوتا ھے۔ طاقت ھی وہی بنیادی نقطہ ھے جس کے لئے انسان اور ریاستیں جنگ و جدل کرتی ہیں۔
‎۔ ریاست کےقیام کے بعد جمھوریت کا تصور اب تک کا بہترین طرز حکومت ھے۔ انسانوں کی بھلائی کے لئے جمہوریت کی شکل میں انسانی معاشرے کی تشکیل اپنی انتہا کو پہنچ چکی ۔  پاکستان بحثیت ریاست تو وجود میں آگیا لیکن سیاست کے پیچ وخم ابھی ترقی کی منازل طے کر رھے ہیں۔سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد سیاسی مفکرین جن میں فوکویاما  پیش پیش تھا کا یہ دعوی تھا کہ جمہوریت سے بہتر نظام حکومت ھو ھی نھی سکتا۔ سویت یونین کی تقسیم کو کیمونیزم کی شکست قرار دیا گیا-  البتہ ۲۰۰۸ کے امریکہ میں معاشی بحران نے کیپیٹلزم کی بہتری پر بہت سے سوال کھڑے کر دئیے۔ اور ساتھ ھی ساتھ چیں کی معاشی میدان میں حیرت انگیز ترقی نے دنیا کو وطیرہ حیرت میں ڈال رکھا ھےکہ کون سا نظام ،انسانی معاشرے کی فلاح کے لئے بہتر ھے۔ حال ھی میں چین نے اپنے ملک سے غربت کے مکمل خاتمے کا اعلان کیا جبکہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت سمیت دنیا بھر میں وسائل کی کمی اور بے روزگاری کے باعث غربت دن بدن بڑھ رھی ھے۔
‎ریاستی امور چلانے کے لئے اختیارات کا دائرہ کار اور ان کا استعمال ھمارے ہاں ایک مسئلہ رھا ھے۔ اور اختیارات کی یھی تقسیم بہت سارے مسائل کی وجہ ھے۔ ھے۔ ریاستی امور چلانا بہت کٹھن کام ھے-اختیارات کا استعمال ایک ھنر ھے ۔ معاشروں کی بہتر تشکیل کے لئے  چند افراد کے ھاتھ میں طاقت کا استعمال ضروری ھےلیکن انسانی جبلت میں ھے کہ طاقت کا استعمال کبھی محدود نھی رھتا اور یہ اھستہ اھستہ حکمرانوں کو  بربادی اور فنا کی طرف کھینچ کے لے جاتاھے ، جس کا براہ راست نقصان ببحثیت مجموعی ریاست اور معاشرے کو ھوتا ھے۔
‎طاقت کا  یھی فلسفہ انسانوں میں ھی نھیں بلکہ عالمی سطح پر  ریاستوں کے درمیان کشمکش کی شکل میں نظر آتا ھے، جو کہ دنیا بھر میں کشدگی کا باعث ھے۔ طاقتور ملک عالمی امور میں اپنی من ماری کرتے ہیں ۔ معیشت پر بھی انھی کا قبضہ ھے ۔ معاشی طور پر غریب ممالک ، طاقت ور ملکوں کے آگے سرنگوں رھتے ہیں ۔ عالمی سیاست میں اپنے ملک کا حصہ وصول کرنے کے لئے یھی حربہ استعمال کرنا پڑتا ھے۔دو عالمی جنگیں ،ایٹم بم کااستعمال ،  افغانستان اور ایراق کے علاوہ شام، لیبیا اور یمن میں بیس سال تک جاری رھنے والی بے نتیجہ دھشتگردی کی جنگ بھی  طاقت کے ناجائز استعمال کا ایک زندہ ثبوت ھے۔ عالمی جنگ دوئم کے بعد دنیا کو سمجھ آیا ھے کہ جنگ مسائل کا حل نھیں اس لئےامن اور ریاستوں کے تعاون کے بارے میں بھی سوچ بچار کرنی چاہیے ۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد کوئی بڑی جنگ تو نھیں ھوئی لیکن امریکہ اور روس نے چھوٹی چھوٹی ریاستوں پر اپنے مفاد ات کے حصول کےلئے اپنے ھاتھ سیدھے ضرور کئے ہیں۔افغانستان میں  دو دھائیوں تک بغیر مقصد کے لڑی جانے والی جنگ نے عالمی نظام پر بے انتہا سوالات اٹھا دئے ہیں۔ کیا عالمی نظام چند ممالک کے چند امیر ترین لوگوں کےے رحم وکرم پر ھی رھے گا یا استعماری قوتوں کے خلاف بھی کوئی ادارہ یا قانون عمل میں آئے گا۔ یو این ، بری طرح عالمی قوتوں خاص طور پر امریکہ کے سامنے بے بس ھے۔

‎یورپ سمیت ، مڈل ایسٹ اور جنوب ایشیا اور جنوب مغربی ایشیا میں تیزی سے تبدیلیاں ھو رھی ھیں۔ امریکہ کے افغانستان سے انخلاء کے بعد خطے میں حالات بے یقینی کا شکار نظر آتے ہیں۔ افغانستان میں اشرف غنی کی حکومت کے خاتمے اور امریکی انخلاہ سے بھارت کو براہ راست دھچکا لگا ھے۔ بھارت نے افغانستان میں پاکستان کے خلاف ایک بہت بڑا نیٹ ورک بنا رکھا تھا۔ پاکستان میں دھشت گردی کی کاروائیوں سمیت ایک منظم پراپیگنڈہ مہم پاکستان کے خلاف چلائی جا رھی تھی۔ بھارت ایک عرصے سے پورے خطے میں عدم توازن کے لئے کوشاں ھے۔ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کا ممبر بننے کے لئے بھارت کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ھے۔ جنوبی ایشیا میں بھارت امریکہ کے فرنٹ میں کا کردار کرتا رھا ھے اور پس پردہ دھشت گردی کو پروان چڑھانے میں بھی اھم کردار ادا کر رھا ھے۔ ۔چین اب برملا امریکی ھٹ دھرمیوں کا اظہار کر رھا ھے۔ خطے میں امن کے لئے  روس اور چین کا اشتراک، سعودی عرب اور ایران میں مفاھمت اھم پیش رفت ھے جس سے امریکہ کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ھے- پاکستان کی اندرونی سیاست اور یک جہتی ایک اھم سوال ہے جس کا جواب نہیں مل پا رھا-استحصالی قوتوں کے ھاتھوں عالمی چیرہ دستیاں ھمیشہ سے جاری ہیں اور رھیں گی ۔ ان کا مقابلہ کرنے کے لئے ریاستوں کو اندرونی محاذ پر مضبوط ھونا پڑے گا۔
-۰-۰-۰
ڈاکٹر عتیق الرحمان

Visited 3 times, 1 visit(s) today

You might be interested in