فرائض سے بڑھ کر ادائیگی


راولپنڈی (نیوز مانیٹرنگ )پاکستان میں دفاعی بجٹ اور ڈی ایچ اے، اور فوجی افسران کو مراعات کے حوالے سے بہت سے مفرضے پھیلا دیئے گئے ہیں –
پاکستان آزادی کے 75 سالوں میں بہت کٹھن مراحل سے گزر کر یہاں پہنچا ہے۔ پاکستان اپنے جیو پولیٹیکل محل وقوع کے ساتھ درحقیقت ایک سکیورٹی سنٹریک ریاست ہے۔ پاکستان کی سلامتی کے چیلنجز اس کے پاس موجود وسائل سے کہیں زیادہ ہیں لیکن افواج پاکستان دفاع کے فرائض خوبی ادا کر رھی ہے-
پاکستان کا دفاعی بجٹ جی ڈی پی کے حوالے سے بتریج کم ہوا ہے۔ 1970 میں دفاعی بجٹ 6.50 فیصد تھا جو کم ہو کر 2021 میں 2.45 فیصد رہ گیا ہے۔ قومی بجٹ 2021 / 20 کے مطابق دفاع کے لئے مختص 1,370 ارب روپے کل جی ڈی پی کا محض 16 فیصد بنتے ہیں نہ کہ 80 فیصد۔
دفاعی خدمات کے 16 فیصد مختص میں سے، پاک فوج کو 594 بلین روپے ملتے ہیں جو کل بجٹ کے وسائل کا صرف 7 فیصد بنتا ہے۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان سب سے زیادہ دفاعی اخراجات کرنے والے 40 ممالک کے انڈیکس میں 23 ویں نمبر پر ہے لیکن 2020 انڈیکس کے مقابلے میں پاکستان اس سے ایک درجے نیچے ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ملک کی اقتصادی تعمیر کے اقدامات میں حکومت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے اپنے دفاعی بجٹ کی مختص رقم سے سمجھوتہ کر رہے ہیں۔
بھارت کا دفاعی بجٹ پاکستان سے 9 گنا زیادہ ہے۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق ہندوستان کے فوجی اخراجات 76.6 بلین ڈالر ہیں جو اسے دنیا کا تیسرا سب سے زیادہ دفاعی اخراجات پر خرچ کرنے والا ملک بناتا ہے۔
اتنے کم دفاعی بجٹ کے باوجود پاکستان نے بھارت کو ہر قدم پر روکا ہے۔ اگرچہ پاکستان کے پاس دنیا کی ساتویں بڑی فوج ہے لیکن اس کے اخراجات ایران، بھارت، سعودی عرب اور امریکہ کے مقابلے میں سب سے کم ہیں۔ اس طرح کے معاشی اور سیکورٹی چیلنجز کے ساتھ پاکستان فخر کے ساتھ دنیا کی 9 ویں طاقتور ترین فوج کے طور پر کھڑا ہے۔ یہ پاکستان کی مسلح افواج کی صلاحیت اور مہارت کو ظاہر کرتا ہے۔
پاکستان کی فوج کا دفاع کے ساتھ ساتھ قوم کی تعمیر میں اہم کردار ہے۔ پاک فوج بڑھ کر ضرورت پڑنے پر اپنے قومی فرائض کی انجام دیا۔ 2019 میں پاکستانی فوج نے ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے اپنے دفاعی مختص میں سے 100 ارب روپے ترک کر دیے۔ مالی سال 2020 / 21 میں پاک فوج نے حکومت کو براہ راست ٹیکس کے طور پر 28 ارب روپے کا حصہ دیا۔
پاک فوج نے قدرتی آفات جیسے زلزلے، خشک سالی اور وبائی امراض کے دوران بھی زبردست تعاون کیا ہے۔ 2005 کا زلزلہ، 2010, 2022 کی سیلاب 2014 کی انسداد پولیو مہم کے- COVID۔ 19 کی وبا کے پھیلنے کے بعد ، وائرس سے نمٹنے کے لیے NCOC قائم کیا گیا۔ کووڈ SOPs کو نافذ کرنے میں پولیس اور LEAs کی بھی مدد کی۔
ٹڈی دل کے مسئلے کے دوران، پاکستان کی فوج ’نیشنل لوکسٹ کنٹرول سینٹر‘ (NLCC) قائم کر کے سویلین حکام کی مدد میں سرگرم عمل رہی۔ کراچی میں 2017 کے سیلاب کے دوران، فوج نے 188 دستے، 21 ڈی واٹرنگ پمپ اور 30 فوجی کشتیاں فراہم کر کے بچاؤ اور امدادی کارروائیوں میں مدد کی۔
الاہور میں سیلاب کے دوران، 200 فوجیوں کو 26 ڈی واٹرنگ پمپ اور 19 کشتیوں سے امدادی کارروائیوں میں استعمال کیا گیا۔ اندرون سندھ، پنجاب اور کے پی کے میں حالیہ 2020 کے سیلاب میں، 100 ڈی واٹرنگ پمپس اور 105 فوجی کشتیوں کی مدد سے 40000 جوان تعینات کئے50 پناہ گاہیں اور 75 میڈیکل کیمپ قائم کیے گئے۔
پاکستانی فوج نے پیر کوہ کے علاقے کے 54 دیہاتوں کو روزانہ کی بنیاد پر پینے کا صاف پانی (تقریباً 350000 لیٹر) فراہم کیا۔
اس کے علاوہ ہیضہ، اسہال اور ملیریا جیسی بیماریوں سے متاثرہ مقامی لوگوں کے ٹیسٹ اور علاج کے لیے علاقے میں شفٹ ہسپتال اور میڈیکل کیمپ قائم کیے گئے۔ اور آخر کار ہیٹ اسٹروک سے نمٹنے کے لیے سی او اے ایس کے حکم پر اندرون سندھ کے دور دراز صحرائی علاقوں میں 21 اور صوبہ پنجاب میں 37 ہیٹ اسٹروک ریلیف سینٹرز قائم کیے گئے۔

#Pakistan #PakistanArmy #Economy #Democracy

You might be interested in