مشکل نہیں عقلمند فیصلے کرنے کی عادت ڈالیں

ہماری چیزوں کو غلط define کرنے کی عادت، دراصل مسائل کی جڑ ہے- کیا مصیبت پر قابو پانے کے لئے مشکل فیصلہ چاھیے یا عقلمند – مشکل فیصلہ کیا ہے؟ مشکل فیصلے کی ہمارے ہاں تعریف یہ ہے کہ عوام پر ٹیکس لگا دو- یہ تو کسی بھی حکومت کے لئے آسان ترین کام ہے- فرض کریں آپ جیپ پر پہاڑی علاقوں میں سفر کر رھے ہیں اور جیپ تیز پانی والے نالے کے اندر داخل ہوتے ہی لڑکھڑا گئی ہے – اور پانی میں پھنسنا شروع ہو گئی ہے- ہمارے کلیے کے مطابق اب مشکل فیصلہ کرنا پڑے گا- مشکل فیصلہ تو یہی ہے کہ جیپ کو ایکسیلیٹر دیں اور مزید آگے لے جائیں اور تمام مسافروں کی جان کو داؤ پر لگا دیں – عقلمند فیصلہ یہ ہے کہ ریورس لگایئں اور نالے سے باھر نکلیں اور کوئی ایسا راستہ ڈھونڈیں جہاں پانی کا بہاؤ کم ہو-
مشکل حالات، عقلمند فیصلے مانگتے ہیں نہ کہ مشکل فیصلے- متوازن فیصلوں کی عادت ڈالنی چاھیے- گیم تھیوری پڑھیں، کم از کم نقصان اور زیادہ سے زیادہ فائدے والے (عوامی مفاد ) کام کریں-
ارب پتی سے کھرب بننے کے لئے سہولت ضرور دیں لیکن ، غریب عوام کے لئے کچھ تو وصول کریں – کھرب پتی اور کچھ نہیں تو کم از کم اپنی فیکٹری کے ملازمیں کے لئے مفت، سبزی، تعلیم اور دوا دارو کا انتظام تو کر دے- ہسپتال نہیں تو ڈسپنسری بنا دے-آپ کسی مغربی ملک میں ایک پیسہ بھی ٹیکس نیٹ سے باھر نہیں لے جاسکتے کیونکہ نقد لین دین نہیں ہے اور قانون کی عملداری ہے- پاکستانی ایئر پورٹ پر اترتے ہی ٹیکس چوری کا بخار چڑھ جاتا ہے- اقتدار کو ضرور مضبوط کریں ، لیکن ملکی معیشیت کو بھی سہارا دیں- غیر یب سے ووٹ ضرور لیں، لیکن ان کے روزگار کا بھی بندوبست کریں- قرضوں پر بغیر سوچے گاڑیاں دیتے جا رھے ہیں- نہ پٹرول ہے، نہ سڑکوں پر گنجائش اور نہ قسطیں دینے والوں کی استطاعت- کمیونٹی ( metro) ٹرانسپورٹ کی سروس کو پروموٹ کریں تاکہ زند گی آسان ہو- ہسپتالوں میں دوائیاں نہ سہی کم ازکم ایم آر آئی کی سہولت تو دیں- بیکن ھاؤس اور روٹس سکول کی ہر برانچ میں بیس پچیس غریب کے بچوں کی سکالر شپ لازمی کریں-
بانٹ کر زندگی گزارنے کے کلچر کو پروموٹ کریں ، دنیا لالچ میں بہت آگے نکل چکی ہے- اور یہی کیپیٹلزم ہے- جمہوریت اور کیپیٹلزم ایکدوسرے کی ضد ہیں ، کم ازکم دیکھنے میں تو یہی لگ رھا ھے- ممکن ھے میری عقل پس پردہ فوائد سمجھنے سے قاصر ھو-
۰-۰-۰
ڈاکٹر عتیق الرحمان

You might be interested in