معرکہ لاھور

لاھور کا معرکہ وارنٹ ،ضمانت اور گرفتاری کے درمیان جاری ہے- مہنگائی کو سائیڈ پر رکھ کر گزارہ جا رھا ہے تاکہ قانون کی عملداری متاثر نہ ھو- پٹرول کی قیمت ایک بار پھر 272 ھو گئی ھے- ابھی مہنگائی کا لفظ چھوٹا پڑتا جا رھے ہے- اب تو تباھی کا لفظ بھی کافی نہیں لگتا- بلکہ حکمرانوں کی بے حسی کے ساتھ ساتھ الفاظ بھی بے معنی ھو گئے ہیں-
۲۰۲۳ شروع ھو چکا ہے- اب کے میدان جنگ لاھور کو چنا گیا ھے- اس کی بہت سی وجوھات ھو سکتی ہیں- شاید پنجاب کی اھمیت سمجھ آگئی ھے یا لاھور کی تجارتی سرگرمیوں کو نقصان پہنچانا مقصود ہے-
گئے وقتوں میں سیاسی میدان میں جلسے جلوسوں میں سیاسی لیڈر اپنے جوش خطابت سے عوام کے دلوں میں اپنی جگہ بناتے تھے- اب انسٹا گرام پر تصویریں لگا کر یہ کام لیا جاتا ہے
پاکستان کی موجودہ سیاست کا تذکرہ لانگ مارچ ، دھرنے، ریلیاں اور بریانی کے حوالوں کے بغیر مکمل نہی ہوتا- بلکہ یہ کہنا بجا ہو گا کہ اب سیاست کا صرف یہی حوالہ بچا ہے-
تاریخی حوالے سے لانگ مارچ کا لفظ چین میں 16 اکتوبر 1934 سے 19 اکتوبر 1935 تک ہونے والے مارچ کے ساتھ جڑا ہوا ہے- وہ مارچ موجودہ چین کی ترقی کا نقطہ آغاز تھا-
پاکستان میں دھرنہ اور لانگ مارچ کا آغاز ۱۹۹۰ کی دھائی میں ہوا- یہ کوئی انقلابی قدم نھیں بلکہ ایک سیاسی داؤ ہے جو حزب اختلاف حکومت سے اپنا حصہ وصول کرنے کے لئے کھیلتی ہے-
مغرب میں سیاسی قیادت کے قد قامت کو جانچنے کے لئے ان کے نظریات اور عوامی فلاح کے کئے گئے کام کو معیار سمجھا جاتا ہے- ہمارے ہاں بندے اکٹھے کرنے کی تکنیکی صلاحیت سیاسی قیادت کو پرکھنے کا معیار ہے- بندے اکٹھے کرنا اب باقاعدہ ایک صنعت بن چکی ہے- اور اس صنعت میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے سیاسی اداکاروں کا شکر یہ ادا نہ کرنا زیادتی ہو گی-
ریلی ، سیاسی حوالے سے چھوٹے اجتماع کو سمجھا جاتا ہے- یہ صرف ہلکی پھلکی سیاسی کاوش ہوتی ہے، جسے آپ وارم اپ راؤنڈ کہ سکتے ہیں- اس میں بریانی نھیں ہوتی
جیسے جلسوں کے حوالے سے مینار پاکستان کا ایک تاریخی حوالہ ہے اسی طرح
دھرنوں کے مقام کے حوالے سے اسلام آباد میں ڈی چوک اور راولپنڈی میں فیض آباد کو تاریخی حیثیت حاصل ہے- روائتی طور پر لانگ مارچ لاہور سے براستہ جی ٹی روڈ اسلام آباد کی طرف بڑھتا ہے- جی ٹی روڈ کے ارد گرد مقامی آبادی زیادہ ہونے کی وجہ سے اسے لانگ مارچ کے لئے موزوں سمجھا جاتا ہے – این ایچ اے نے جی ٹی روڈ کی مرمت کے لئے علیحدہ بجٹ رکھ چھوڑا ہے تاکہ لانگ مارچ کے دوران سڑک کو ھونے والے نقصان کی اگلے لانگ مارچ سے پہلے بروقت مرمت ہو سکے – لانگ مارچ کو اب باقاعدہ پاکستان کی سرکاری ثقافتی تقریبات میں شامل کر لیا گیا ہے-
اسلام آباد کے شہریوں کے لئے پولن الرجی اور لانگ مارچ اب تقریبا ایک روایت کی حیثیت اختیار کر چکا ہے – لاھور میں جیسے بسنت کا تہوار مناتے ہیں اسلام آباد میں لانگ مارچ کے دوران شہری اب گھروں میں باقاعدہ تقریبات کا انعقاد کرتے ہیں- لانگ مارچ کو سرکاری تعطیلات کے شیڈول میں بھی شامل کر لیا گیا ہے- چٹھیوں کی تعداد کے حوالے سے البتہ خانہ خالی رکھا گیا-
پولن الرجی کا موسم شروع ہوتے ہی لوگ ماسک پہن لیتے ہیں -ایسے ہی لانگ مارچ کا سیزن شروع ہوتے ہی سینکڑوں کنٹینر اسلام آباد اور راولپنڈی کی سڑکوں کے کنارے ترتیب سے رکھ دئے جاتے ہیں کہ بوقت ضرورت آسانی رہے-
دھرنوں اور لانگ مارچ میں کنٹینروں کو مرکزی حیثیت حاصل ہے- باقی دنیا میں کنٹینر سامان کی نقل وحمل کے ذریعے استعمال کئے جاتے ہیں ہمارے ہاں ان کا بہترین مصرف لانگ مارچ میں استعمال ہے- سال ۲۰۲۲ کا آغاز عدم اعتماد کے شغل سے ہوا تھا- پھر عدم اعتماد کی کامیابی کا جشن اور احتجاجی تحریک ایک ساتھ چلتی رھیں – جیتنے والے ہارے ہوئے لگ رھے تھے اور ہارنے والوں کی لاٹری نکل آتی تھی- سیلاب نے موقع کی مناسبت کا فائدہ اٹھایا اور تباہی مچا دی- لیکن حکومت اور اپوزیشن حسب روائیت ٹس سے مس نہ ہوئیں- سیلاب متاثرین بھی اسی طرح بچ نکلے جس طرح
کرونا میں قدرتی مدافعت کام آئی-
-۰-۰-۰-۰-۰
تحریر؛ عتیق الرحمان

You might be interested in