‏ووٹ اور برادری

ہلکا پھلکا تجزیہ
‏ووٹ اور ادھار کوئی بھی خوشی سے نہیں مانگتا- دونوں ضرورتمند ہوتے ہیں -غریب کو ادھار پیٹ کی بھوک مٹانے کے لئے چاہئیے- امیدوار کو طاقت کا ٹیکہ چاہیے-
‏ووٹروں کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہوتی ہیں جو وہ الیکشن کے لئے سنبھال کے رکھ چھوڑتے ہیں- ہمارے ہاں رُسنے(ناراض) کا بہت رواج ہے- خاص طور پر جوائی ( داماد) بات بات پر رُستے ہیں- وجہ کوئی بھی نہیں بس خواہ مخواہ نخرے – ہمارے ہاں شادی بیاہ کو رُسنے کا بہترین موقع سمجھا جاتا ہے- اکثر رشتہ دار دور پار سے صرف رُسنے کے لئے آتے ہیں- پہنچتے ہی ناراض ہو جاتے ہیں- پھر پورا خاندان اُن کو مننانے پر لگ جاتا ہے اور شادی ختم ہونے پر خاندان دو ٹکروں میں بٹ جاتا ہے- ناراض ہونے والا بہت آرام سے آتا ہے اور بولتا ھے ” اچھا ماما جی فیر اجازت اے” –
‏ وہاں جو کسر رہ جائے وہ ووٹر الیکشن کے لئے سنبھال کر رکھ چھوڑتے ہیں- الیکشن کے قریب آتے ہی ووٹر برادریوں کے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں – سنگل ووٹ کی اتنی قدر نہیں ہوتی جگہ گروھی سیاست کا وزن ہوتا ھے- یہ چھوٹے چھوٹے گروہ امیدوار کو تگنی کا ناچ نچاتے ہیں- ہمارے امیدوار بھی پھر لوھے کا جانگیہ پہن کے نکل پڑتے ہیں- اگر ووٹر ، امیدوار کو جانتا ھے تو امیدوار کو بھی ووٹر کے چسکے کا پتا ہوتا ھے-
‏برادری روز چسکا لینے کے لئے ہچکولے کھاتی ہے، کبھی کیچلی مار لیتی ہے- امیدوار تک بھی صورت حال لمحہ بہ لمحہ پہنچ رہی ہوتی ہے- امیدوار بھی پھر نئے نئے کھلاڑی میدان میں اتارتا ہے اور چائے کا مینیو اور ضرورت پڑے تو کھانے کا اہتمام بھی کر تا ھے- یہ کھیل تماشا آخری دن تک جاری رھتا ہے- چھوٹی برادری کُھل کر سامنے نہہیں آتی اور وہی عموما فیصل کُن ثابت ہوتی ھے-
‏امیدوار سے برادریاں کسوٹی بھی کھیلیتی ہیں-
‏امیدوار اپنی کوتاہیوں کا جواز تو پیش کر سکتا ہے لیکن آئی ایم ایف کے جبر اور ظلم کی صفائی کہاں سے دے- بجلی کے بل کیوں جمپ ماتے ہیں، اس بیچارے صوبائی اسمبلی کے میدوار کو کیا پتا جس نے پارٹی فنڈ میں بھاری چندہ دے کے ٹکٹ لیا ہے-
‏یہ پارٹی چندہ دوسری چندا سے تھوڑا مختلف ہوتا ہے- یہ چندہ پارٹی کے مختلف امور چلانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے-ملک کے جتنے بڑے بڑے مافیاز ہیں وہ بھی الیکشن کے موقع پر پارٹیوں کو سلامی پیش کرتے ہیں پارٹی جب حکومت میں آ جاتی ہے تو مافیاز کو کندھا دیتی ہے- اور مافیا پھر عوام کو قبرستان تک چھوڑ کے آتے ہیں – جمہوریت کا یہی سرکل ابھی تک سامنے آ سکا ھے-
‏برادریاں ووٹ دینے کا فیصلہ اکٹھے کرتی ہیں لیکن بجلی کے اور گیس کے بل اپنے اپنے ادا کرتی ہیں- الیکشن کے فورا بعد برادری ایسے بکھرتی ہے جیسے ہاتھ سے پھسلا ہوا کانچ کا برتن ٹوٹ کے بکھرتا ہے-جس دن ووٹر کو یہ سمجھ آ گئی کہ ووٹ برادری کا نہیں میرا اپنا فیصلہ ہے، پاکستان بدل جائے گا-
‏الیکشن میں ووٹ انفرادی فیصلہ ہوتا ہے اگر مجموعی فیصلہ ہوتا تو پوری برادری کا ایک ووٹ بنتا- اثرو رسوخ سے ووٹ ڈلوانا ہی دراصل جمہوریت کی بنیادی غلطی –
‏۰-۰/۰-
‏ڈاکٹر عتیق الرحمان
‏⁦‪#Elecciones2024‬⁩ ⁦‪#VotersDay

You might be interested in