گوورننس اور مزاح


عالمی افق پر حکمرانی بر قرار رکھنے کے لئے امریکہ نے بہت جدو جہد کی ھے- آدھی دنیا کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پریکٹس کروا کے ابھی واپس پہنچے ہیں – امریکہ ڈبلیو ڈبلیو ایف، باسکٹ بال اور بے نتیجہ جنگیں لڑنے میں مہارت رکھتا ہے- حال ہی میں امریکہ نے اپنی طاقت کے اظہار کی ایک بے نتیجہ بیس سالہ جنگ لڑی ہے – اس سے قبل بھی یہ ریکارڈ امریکہ کے پاس ھی تھا جب انہوں نے ویت نام کے ساتھ لمبی جنگ لڑی تھی- نتیجہ دونوں جنگوں کا وہی نکلا -کیونکہ ملک میں معاشی خوشحالی ھے تو صدر کے پاس امریکی عوام کے پیسے کا بہترین مصرف یہی ہے کہ دور دراز کے ایشائی اور چھوٹے چھوٹے ملکوں پر میذائل گرائے اور دنیا کو جنگ و جدل میں الجھا ئے رکھے- کچھ لوگوں کا خیال ھے کہ امریکہ اپنا اسلحہ بیچنے کے لئے جنگیں لڑتا ھے- مجھے اس سے اس لئے اختلاف ھے کہ افغانستان کی سرکار کے پاس اتنی فضول خرچی کی گنجائش ہی نھیں تھی-انہوں نے پوری جنگ کابل میڈ ہتھیاروں سے لڑی ھے –
ڈونلڈ ریگن امریکی صدر بننے سے قبل ھالی ووڈ میں اداکاری کرتے تھے اور یہ وہی دور تھا جب صوفیہ لورین پردہ سکرین پر جلوے بکھیرتی تھیں- فلموں میں نام بنانے کے بعد ریگن وائٹ ہاؤس آگئے – ریگن کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ نیٹ فلیکس کو مستقبل میں ھاؤس آف کارڈز بنانے میں آسانی رھے- ریگن کی تقاریر مزاح سے بھر پور ھوا کرتی تھیں – وہ حاظرین کو سیاسی فلسفے سے زیادہ لطیفوں سے محذوذ کرتے تھے-
2016 میں ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر منتخب ھوئے تو ایک دفع پھر امریکی عوام کے قہقہے اور چیخیں بلند ہوئیں – ٹرمپ سیاست میں آنے سے قبل کشتی کھیلتے تھے-
ٹرمپ ایک لا ابالی انسان مشہور ہیں – کسی کو خاطر میں نھیں لاتے – بہت امیر ہیں اور ان کے مداح ایک خاص مزاج کے لوگ ہیں ، جنہیں دنیا میں cult کے نام سے جانتی ہے- ٹرمپ کا خیال تھا دنیا پر راج کرنے سے کہیں زیادہ بہتر ھے بندہ شغل لگائے رکھے۔ ٹرمپ نے بھی تین شادیاں کر رکھی تھیں۔ ٹرمپ , بورس جانسن اور بہت سے دوسرے سیاست کے ایسے کردار ہیں جو قوموں کو اپنی غلطیوں کی صورت میں بھگتنے پڑتے ہیں۔
ھمارے ھاں بھی ٹرمپ نما کافی سیاستدان ہیں -سیم ٹو سیم -سٹینڈنگ کامیڈی اور سیاسی تقریر یکساں مہارت سے کرتے ہیں۔ سمجھ نھی آتی ان کا سیاست میں کیا کردار ھے۔ ایک دوست نے پوچھا لکھنے والا سوائے لال حویلی کی شہرت اور جغتوں کے شیخ کی سوانح میں کیا لکھے گا۔ شیخ صاحب سیاست اور مزاح کو ملا کر بات کرنے کا فن خوب جانتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں میں آج کل مزاحیہ ترجمانی کا رواج پرورش پا رھا ہے ۔
سیاست کے داؤ پیچ بندہ گھر ،یونیورسٹی یا یونین کونسل کی سیاست سے سیکھ کے نکلتا ھے۔ ھاشمی صاحب ، حافظ سلمان بٹ ، لیاقت بلوچ پنجاب یونیورسٹی سے فارغ اتحصیل ہیں۔ عثمان بزدار نے یونین اور ڈسٹرکٹ کونسل سے تربیت حاصل کی ۔جبکہ عابد شیر علی، دانیال عزیز، عمر ایوب مونس الہی نے گھر میں ٹیوشن پڑھی-
بیان بازی سیاست میں ایک فن کی حیثیت اختیار کر چکی ھے- اخبارات کے پہلے اور آخری صفحہ پر خبریں کم اور سیاسی بیان کی شکل میں لطیفے زیادہ نظر آتے ھیں – مثلا ” مجرموں کو کیفیکردار تک پہنچا کر دم لیں گے”؛ ائ جی پولیس۔ اب اس بیان کو پڑھ کر پیٹ میں بل نہ پڑھیں تو کیا ھو-اب یہ دیکھیں “ھمیں اقتدار نھی جمہوریت چاھیے” ، یا یہ کہ “ھم تو انصاف اور امن کے علمبردار ہیں”؛ ایم کیو ایم ،لندن ۔ مجھے سب سے زیادہ ڈر اس بیان سے لگتا ھے “ھم ملک کو مشکلات سے نکال کر لے جائے گی ( کیونکہ یہ بتاتے نھی ھیں کہ انہوں نے ھمیں لے کے جانا کدھر ھے ) -کیا آپ کو یہ سنجیدہ لوگوں کے بیانات لگتے ہیں۔ جب سے انور مقصود نے سیاست پر بولنا شروع کیا ہے ، سیاست سچ مچ لطیفہ بن گئی ہے کیونکہ یہ وہ والے انور مقصود نہیں ، بلکہ یہ کوئی بھی نہیں- یہ سب انٹر نیٹ کی پیداوار ہے، جعلی ناموں سے مشہور شخصیات کے بیانات چلانا بہت عام ہوتا جا رھا ہے-
پاکستانی عوام کو اس حال تک پہنچانے میں تمام سیاسی کرداروں کی یکساں کاوش ہے-ھر ایک نے بحثیت جثہ حصہ ڈالا لیکن مانتا کوئی نھی ھے۔ بے لوث خدمت کی یہ انتہائی اعلی مثال ھے کہ ان میں سے کوئی بھی نھی مان رھا کہ وطن عزیز کو ترقی کی انتہاء تک پہنچانے میں انہوں نے کوئی کردار ادا کیا ھے۔ اور سارے ایک دفع پھر بضد ہیں کہ موقع ھمیں ہی دیں-
-۰-۰-۰-۰-۰
ع-ت-ی-ق

You might be interested in