Perception and Reality

‏ہم دلیل , سچ کو ثابت کرنے کے لئے نہیں دے رھے ھوتے بلکہ اپنی perception کی سپورٹ میں بول رھے ہوتے ہیں –

‏ پرسیپشن کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا- perception دو طرح کے علم کی محتاج ہوتی ہے- ایک وہ علم جو ہم نے اپنے مشاھدے سے حاصل کیا اور دوسرا جو ہمیں کتابوں اور دوسرے میڈیم کے ذریعے منتقل ہوا-
‏آج ایک انٹرویو چلا – وہ اس تحقیقی مقالے کے نتائج کو ثابت کرتا ہے – جس کی جو perception ہے وہ content کو اسی طرح interpret کر ے گا-
‏ابھی آپ تجربے کے طور پر switch side کریں – اپنے مخالف کے اسی پروگرام میں کئے گئے انٹرویوز دیکھیں – اگر وہ انٹرویو سچ تھے تو یہ بھی سچ ہے –
‏اسی طرح دوسری سائیڈ بھی تجربہ کرے-
‏وہ سب حضرات جو جو ججز، فوج پر ۲۴/۷ پر تنقید کرتے ہیں –
‏ہم سب ،میرے سمیت، اپنی اپنی perception کے بوجھ تلے دبے ہوئے سچ سچ چلا رھے ہیں –
‏سیاسی وابستگیاں بہت کم تبدیل ہوتی ہیں – اگر کوئی ریپبلکن ھے تو وہ ریپبلکن ہی رھے گا، ڈیموکریٹ ھے تو ڈیموکریٹ ہی رھے گا- ہمارے ہاں بھی پارٹی وابستگیاں نسل در نسل چلتی ہیں – لوگ زندگی بھر اپنے بنے بنائے تصور ات اور خیالات کی حفاظت کرتے ہیں – آپ چاہے ان کو ھزار دلیلیں دیں، شہادتیں پیش کریں وہ مچھلی کی طرح ہاتھ سے پھسل جائیں گے-
‏دراصل یہ ایک قدرتی رویہ ھے- کیونکہ ہمارا دماغ چیزوں کو ایسے ہی پرکھتا ھے- اگر ہم کوئی چیز سالہا سال سے دیکھتے چلے آ رھے ہیں اور وہ اگر تبدیل بھی ھو گئی ھے تو ہم اسے اسی پیرائے میں دیکھتے رھتے ہیں ، اسے گم نہیں ھونے دیتے-
‏ میڈیا رپورٹنگ اور سوشل میڈیا پوسٹس گم ہوئی چیزوں کو زندہ رکھنے میں اہم کردار کرتے ہیں – ٹرینڈز، استعارے اور فالو اپ سٹوریاں کی جاتی ہیں ۔
‏ تصورات کے اس نمونے کا مطالعہ کرنے کے لیے ہاورڈ میں ڈاکٹر ڈیوڈ لیوری نے ایک تحقیق کی۔ ان کے محققین کی ٹیم رضاکاروں کو کمپیوٹر لیبارٹری میں لے کر آئی اور انہیں ایک کام دیا – کمپیوٹر سے تیار کردہ خطرناک چہروں کی ایک سیریز کو ان کے سامنے لایا گیا۔ چہروں کو محققین نے بہت ہی خوفناک سے لے کر انتہائی بے ضرر تک کے لیے احتیاط سے ڈیزائن کیا تھا۔
‏ طلباء کو زیادہ دھشت والے چہروں سے کم دھشت والے چہرے دکھاتے گئے ، حتی کہ نارمل چہرے دکھانے شروع کر دیئے لیکن طلباء کو خوفناک چہرے ہی نظر آ تے رھے- سوشل میڈیا اس کمزوری کا فائدہ اٹھا رہا ہے اور لوگوں کو وہ چیزیں دکھا رہا ہے جو ختم ہو چکی ہیں۔
‏ ایک اور تجربے میں،طلباء کو اسکرین پر نیلے اور جامنی نقطے پہچاننے کو کہا گیا-
‏جیسے جیسے نیلے نقطے نایاب ہوتے گئے، لوگوں نے قدرے جامنی نقطوں کو نیلا کہنا شروع کر دیا۔
‏ ایک اور تجربہ کیا گیا جس میں طلباء کو پڑھنے کے لئے Thesis دیئے گے کہ پہچانیں اور فیصلہ کریں کون سے اخلاقی ہیں اور کون سے غیر اخلاقی۔ لوگوں کو وقت کے ساتھ ساتھ کم اور اس سے کم غیر اخلاقی مطالعات دکھائے گئے- لیکن پڑھنے والے بہت کم تقسیم کر پائے اور ethical کو بھی unethicals کہہتے رھے

‏⁦‪#politicsaside‬⁩ ⁦‪#Pakistan‬ ⁦‪#Perception‬‏

You might be interested in